بلوچستان کے 33اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم شروع ہوگئی ، کوارڈینیٹر ایمر جنسی آپریشن سینٹر

کوئٹہ ۔26اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان کے 33اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم پیر26 اکتوبر سے شروع ہوگی ہے سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے25 لاکھ کے قریب بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس مہم کے دوران10 ہزار 585کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی۔جن میں 8ہزار988موبائل ٹیمیں،941فکسڈسائٹ او594ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں اس وقت دنیا بھر میں پاکستان …

کوئٹہ ۔26اکتوبر (اے پی پی):بلوچستان کے 33اضلاع میں پانچ روزہ انسداد پولیو مہم پیر26 اکتوبر سے شروع ہوگی ہے سہ روزہ انسداد پولیو مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے25 لاکھ کے قریب بچوں کو پولیو سے بچاؤکے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس مہم کے دوران10 ہزار 585کے قریب ٹیمیں حصہ لینگی۔جن میں 8ہزار988موبائل ٹیمیں،941فکسڈسائٹ او594ٹرانزٹ پوائنٹس شامل ہیں اس وقت دنیا بھر میں پاکستان اور افغانستان دو ایسے ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس موجود ہے۔ سال2020 میں پورے ملک میں اب تک79پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جس میں سے بلوچستان سے 23کیس پولیو کو ہرانے کی جنگ میں والدین، سیاسی حلقوں، علماکرام او ر انتظامیہ کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان کی مثبت سوچ، رویوں اور مدد کی بدولت پولیوکی مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہا ر ایمر جنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹرراشدرزاق نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا سمیت پوری دنیا میں اسی ویکسین کے ذریعے پولیو کا خاتمہ یقینی بنایا گیا ہے۔ لہذا بچوں کو ہر مہم میں قطرے پلانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس سے پولیو وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والی پولیو مہم انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ ہم نے عزم کررکھا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پورے صوبے سے پولیو کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور پولیو کا خاتمہ کرنے کے لیے انسداد پولیو کی ہر مہم میں پانچ سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانا لازمی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کوحفاظتی ٹیکہ جات کا کورس مکمل کرانا بھی لازمی ہے۔ تاکہ بچوں میں پولیو سمیت دیگر خطرناک اور جان لیوا بیماریوں سے بچنے کے لیے قوت مدافعت پیدا ہو۔راشدرزاق نے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو کامیاب اور ہر بچے کو قطرے پلانے کیلئے کمیونٹی ہیلتھ رضاکاروں کی بھی خدمات لی جارہی ہیں جو ان ہائی رسک علاقوں میں کام کرینگے جہاں بچوں تک رسائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس عمل کوبہتر بنانے کیلئے علماکرام، قبائلی رہنماؤں اور معتبرین کی بھی مدد لی جارہی ہے۔ہماری میڈیا، عوام اور ہر شہری سے اپیل ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارے بچے مستقل معذوری سے بچ سکیں۔ پولیو لا علاج مرض ہے او ر پولیو ویکسین پلا کر ہی بچوں کو اس سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔