ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کی فرانس میں گستاخانہ حملوں کی شدید مذمت

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے فرانس میں گستاخانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں تواتر سے ہونے والے یہ واقعات سوچی سمجھی سازش کے تحت کئے جا رہے ہیں، فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں، فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ پیر کو ایوان …

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):ایوان بالا میں مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے فرانس میں گستاخانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس میں تواتر سے ہونے والے یہ واقعات سوچی سمجھی سازش کے تحت کئے جا رہے ہیں، فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں، فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کیا جائے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ پیر کو ایوان بالا میں فرانس میں گستاخانہ حملوں کے حوالے سے قرارداد کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ میں نے اس حوالے سے قرارداد پیش کی تھی، فرانس کے صدر نے جو حرکت کی ہے، اس سے ایک ارب 70 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، میں اس ایوان میں ترک صدر کی بات سےاتفاق کرتا ہوں کہ فرانس کے صدر کا دماغ خراب ہے، مسلمان اپنے پیغمبر ﷺسے ہر چیز سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں، فرانس کا صدر اور اس طرح کے جو لوگ حرکتیں کر رہے ہیں، دنیا کا کوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا، حکومت پاکستان اس معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بلائے اور تمام سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جائیں، یہ تہذیبوں کی جنگ کی طرف لے جائے گا، اس طرح کی حرکات کرنے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ فرانس کسی زمانے میں اپنی روشن خیالی کی وجہ سے جانا جاتا تھا، ہم یورپ سے بھی کہتے ہیں کہ اس کا نوٹس لیں، دنیا کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ یہ قرارداد ہم سب کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے، وزیراعظم عملی اقدام کرتے ہوئے فرانس کے سفیر کو احتجاجاً پاکستان سے نکالنے کا اعلان کریں اور او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے، فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، مسلمان فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ سینیٹر مولانا فیض محمد نے کہا کہ اسلام میں محبت ہے، دہشت گردی کی تعلیم نہیں ہے، جان بوجھ کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور لڑائی جھگڑے کا ماحول بنانے کے لئے اس طرح کی گستاخیاں کی جاتی ہیں۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اسلامو فوبیا کے خلاف بھرپور آواز بلند کی ہے، سعودی عرب کو آگے بڑھ کر عالم اسلام کی ترجمانی کرنی چاہیے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ گستاخانہ طرز عمل کا ارتکاب کرنےوالا کوئی عام فرد نہیں بلکہ فرانس کا صدر ہے، محض مذمت کافی نہیں، اسلامی ممالک کو مل کر عملی اقدامات سے گستاخی کا جواب دینا ہو گا۔ سینیٹر مولانا عطا الرحمن نے کہا کہ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں، معافی مانگے جانے تک پاکستان کے سفیر کو فرانس سے واپس بلایا جائے اور فرانس کے سفیر کو وطن واپس بھجوایا جائے، اس کے خلاف سخت احتجاج ہوا تو مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جائے۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ نہ صرف ہمیں بلکہ پوری اسلامی دنیا کو فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہیے اور مسیحی رہنماوں سے بھی بات کرنی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، حکومت کو غیر روایتی طریقے اختیار کرنے ہوں گے۔ سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ہمیں گستاخانہ خاکوں کے خلاف بھرپور آواز بلند کرنی چاہیے، دنیا کی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے اسلامو فوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ہے، فرانس کے صدر نے جان بوجھ کر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کا راستہ اخیتار کیا ہے، وزیراعظم نے واضح پیغام دیا اور فیس بک کے حکام کو بھی خط تحریر کیا ہے، تمام ارکان پارلیمان کو وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہو کر دنیا کو واضح پیغام دینا چاہیے۔ سینیٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ تمام ارکان قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، تمام ادویات انبیاءکرام ؑ کےتقدس پر متحد ہیں، پوری اسلامی دنیا میں گستاخی کے خلاف غم و غصہ ہے اور احتجاج کی لہر ہے، ہمیں تمام تر ضروری اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ گستاخیوں کا راستہ روکا جا سکے۔ سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ انتشار پھیلانے کی سازش کی جا رہی ہے، مسلم امہ کے جذبات مجروح کئے گئے ہیں۔ سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ فرانس یورپ کا حصہ ہے اور یہ گستاخانہ اقدامات یورپ کے اپنے انسانی مزید بڑھاوا دے رہا ہے، فرانس کے صدر نے فرانس کے اپنے شہریوں کے جذبات کی بھی توہین کی، پاکستانی حکومت کو انسانی حقوق کی عالمی عدالت میں فرانس کے خلاف مقدمہ کرنا چاہیے اور فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کئے جائیں۔ سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ایوان بالا کے ارکان نے اپنی تقریروں میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی عکاسی ہے، نبی کریم کی ناموس ہمارے لئے ہر چیز سے بڑھ کر ہے، ہمیں علمی و فکری لحاظ سے بھی بھرپور جواب دینا ہے اور سفارتی و سیاسی ردعمل بھی دینا ہے، میں عالمی سطح پر انصاف پسند طبقات سے بات چیت کرنی چاہیے اور قانونی راستے بھی اختیار کرنے چاہئیں، اسلامو فوبیا کے حوالے سے جو کچھ ہو رہا ہے اس کا جواب بھی ضروری ہے۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ نبی کریم کی حرمت و ناموس پر مسلمانوں کے لئے سب سے بڑھ کر رہے، نبی کریمﷺ کی حرمت کے لئے آواز بلند نہ کرنے والے مسلمان کہلانے کا ہی حقدار نہیں۔ سینیٹر ستارہ ایاز اور سینیٹر سکندر میندھرو نے بھی گستاخانہ واقعات کی شدید مذمت کی۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے، حکومت فرانسیسی مصنوعات پر پابندی لگائے، پاک فرانس فرینڈشپ گروپ کو بھی ختم کیا جائے، فرانسیسی سفیر کو واپس بھجوایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھرپور احتجاج کرنا چاہیے لیکن اپنی املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے، ورنہ دشمن خوش ہوں گے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ فرانس میں 6 ملین مسلمان ہیں، مغرب میں ہولو کاسٹ سے انکار کرنے پر سخت قوانین ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کے جذبات کا احترام نہیں کیا جا رہا، ہمیں دنیا میں مختلف متعلقہ فورمز پر یہ معاملہ اٹھانا چاہیے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر نے فرانس کے عوام کو شرمسار کیا ہے، حضور نبی کریم ﷺتمام دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور عفو در گزر کا عملی نمونہ پیش کیا، حضور نبی کریم ﷺسے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہمیں ناموس رسالت ہر چیز سے بڑھ کر ہے، اسلام تمام مذاہب اور پیغمبروں کے احترام کا درس دیتا ہے، پوری مسلم امہ گستاخانہ خاکوں کو ہٹانے اور فرانس کے صدر کی طرف سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کرتا ہے، امن کے لئے ہماری خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو اب اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔