اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے گستاخانہ خاکوں پر سیاست افسوس ناک ہے‘ حساس معاملے پر اپوزیشن نے غیر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا‘ قوم جانتی ہے کہ پاکستان کے اداروں کو کون متنازعہ بنا رہا ہے‘ ہندوستان کی بولی کون بول رہا ہے‘ کل ان کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگے ہیں‘ ان …
اپوزیشن کی جانب سے گستاخانہ خاکوں پر سیاست افسوس ناک ہے‘ حساس معاملے پر اپوزیشن نے غیر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا‘ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے گستاخانہ خاکوں پر سیاست افسوس ناک ہے‘ حساس معاملے پر اپوزیشن نے غیر سنجیدہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا‘ قوم جانتی ہے کہ پاکستان کے اداروں کو کون متنازعہ بنا رہا ہے‘ ہندوستان کی بولی کون بول رہا ہے‘ کل ان کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگے ہیں‘ ان میں نریندر مودی کی روح منتقل ہوئی ہے‘ ہندوستان کا بیانیہ ان کی گھٹی میں شامل ہوا ہے‘ کراچی واقعہ کی ویڈیو فوٹیج نے مسلم لیگ (ن) اور ان کے حلیفوں کو بے نقاب کردیا ہے‘ تین جلسیوں سے حکومت مرعوب نہیں ہوگی۔ پیر کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف کے نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حضورﷺ کی شان میں گستاخی ہوئی ہے۔ پوری دنیا اور امہ میں اضطراب کی کیفیت ہے۔ اس حساس معاملہ پر اپوزیشن کے غیر سنجیدہ رویہ پر افسوس ہوا ہے۔ مقدس معاملہ پر بھی سیاست کی جارہی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اس پر اختلاف نہیں ہے ‘ پوری قوم اور مسلم امہ متفق ہے۔ حضورﷺ کی شان میں گستاخی قابل قبول نہیں ہے۔ اس سے پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوئے۔ اسلامو فوبیا کے رجحان پر ہمیں تشویش ہے۔ اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہم ایک قرارداد لے آئے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس پر پورے ہاوس کا اتفاق ہو لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس اہم معاملے پر بھی سیاست کی جارہی ہے۔ اپوزیشن جمہوری قدروں کو پامال کر رہی ہے۔ اس ایوان میں سیٹیاں بجا کر اس کی حرمت کو پامال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز پر سیاست نہیں ہوتی۔ بعض چیزیں سیاست سے بالاتر ہیں۔ گستاخانہ خاکوں کا معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف نے فیٹف کا ذکر کیا ہے تو ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیں دھکیلا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ لوگ دعوے کر رہے ہیں کہ انہیں عددی اکثریت حاصل ہے۔ اس طرح کے دعوے انہوں نے بجٹ اور فیٹف پر قانون سازی کے وقت بھی کئے تھے جس پر انہیں ناکامی ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ قوم جانتی ہے کہ پاکستان کے اداروں کو کون متنازعہ بنا رہا ہے۔ ہندوستان کی بولی کون بول رہا ہے۔ کل ان کے پلیٹ فارم سے بلوچستان کی آزادی کے نعرے لگے ہیں۔ ان میں نریندر مودی کی روح منتقل ہوئی ہے۔ ہندوستان کا بیانیہ ان کی گھٹی میں شامل ہوا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ خواجہ آصف نے آئی جی سندھ کا حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک ڈرامہ اور ناٹک ہے۔ واقعہ کی ویڈیو فوٹیج نے مسلم لیگ (ن) اور ان کے حلیفوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تین جلسیوں سے حکومت مرعوب نہیں ہوگی۔ اپوزیشن جتنے جلسے کرنا چاہتی ہے کر لے۔ جلسے ہم بھی کر سکتے ہیں‘ ہمارا مطمع نظر یہ تھا کہ اس معاملے پر اختلاف نہ ہو۔ اپوزیشن کی یہ بھول ہے کہ وہ ایوان کی کارروائی کو بلڈوز کر سکتے ہیں۔ ہم ترکی بہ ترکی ان کی ہر بات کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایک سال تک دم دبا کر بیٹھ گئے تھے۔ جب مک مکا نہ ہوا تو انہیں جمہوریت کا عارضہ لاحق ہوا اور ان کو جمہوریت کا درد شروع ہوا۔ ان لوگوں نے آئینی اداروں پر حملے کئے‘ آئینی اداروں کو نقصان پہنچایا‘ افواج کے اندر غلط فہمیاں اور پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دے کر یہ لوگ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر وزیراعظم عمران خان ان کی چوری پر آنکھ بند کر لیں تو جمہوریت محفوظ ہو جائے گی اور آئین بھی بحال ہو جائے گا۔ ان کو اپنے ڈاکے بے نقاب ہونے کا خطرہ ہے۔ اگر ہمیں بات کی اجازت نہیں ہے تو اپوزیشن کو بھی بات نہیں کرنے دیں گے۔








