حکومت پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کو وسعت اور فروغ دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتا ہے، بدقسمتی سے بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات خراب کرنے کیلئے سازششیں کر رہا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی اور دیرینہ تعلقات ہیں، بھارت کی غلط فہمی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا …

اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات پر یقین رکھتا ہے، بدقسمتی سے بھارت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات خراب کرنے کیلئے سازششیں کر رہا ہے، پاکستان اور افغانستان کے درمیان تاریخی اور دیرینہ تعلقات ہیں، بھارت کی غلط فہمی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ رکاوٹوں کو دور کرنے، سرحد سمیت دیگر ایشوز کو حل کرنے کیلئے چار ٹاسک فورس بنائے گئے ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو وسعت اور فروغ دیا جا سکے۔ پیر کو پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان تجارت و سرمایہ کاری فورم سیمینار پاکستان کی تاریخ کا بڑا ایونٹ ہے جس میں دونوں ممالک کے بزنس مین، پارلیمینٹیرینز اور حکومتی نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ افغانستان میں امن نہ صرف پاکستان پورے خطے کے مفاد میں ہے، پاکستان افغانستان میں دائمی امن کا خواہاں ہے اور ہماری خواہش ہے کہ وہاں پر کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ایک بڑا روٹ ہے جو وسطی ایشیائی ممالک کو ملاتا ہے، توقع ہے کہ پاکستان کو مستقبل میں افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیائی ممالک میں تجارت کیلئے ایک بڑی مارکیٹ دستیاب ہو گی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ افغان ویزہ پالیسی میں تبدیلی حکومت کا بڑا اقدام ہے، افغانیوں کو اب بارڈر پر ہی ویزے ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان ٹریڈ شپ گروپ کے ذریعے ایشوز پر بات کی تھی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں جو رکاوٹیں تھیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کراچی میں کھڑے 11ہزار کنٹینر کو وہاں سے نکالا گیا ہے اور اب صرف ہزار کے قریب کنٹینر کراچی میں موجود ہیں، پہلے 40 سے 45 دنوں میں ایک کنٹینر بارڈر عبور کرتا تھا اب تین چار دن پر آ گئے ہیں۔ اسد قیصر نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کر تجارت سمیت دیگر ایشوز پر بحث کریں اور ان کا حل نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ2021ءمیں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ ختم ہو جائے گا، چاہتے ہیں کہ نیا معاہدہ عوام کے مفاد میں ہو، اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں جو منفی رحجانات آتے ہیں ان کو ختم کیا جائے۔