اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):معروف مصنف اورمڈل ایسٹ آ ئی، کے کالم نگار پیٹر اوبورن اور فری لانس صحافی جان پیٹر نے کہا ہے کہ رواں ہفتے جموں و کشمیر کی بھارت میں شمولیت کے 73سال مکمل ہورہے ہیں جو گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کا باعث چلا رہا ہے۔پیر کو اپنے ایک مشترکہ آرٹیکل میں معروف صحافیوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ، …
یوم سیاہ ،جیسے جیسے نریندر مودی کی کشمیر یوں کے ساتھ سفاکیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سال کی تقریبات اتنی ہی غمگین ہوں گی، پیٹر اوبورن ، جان پیٹر

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اکتوبر (اے پی پی):معروف مصنف اورمڈل ایسٹ آ ئی، کے کالم نگار پیٹر اوبورن اور فری لانس صحافی جان پیٹر نے کہا ہے کہ رواں ہفتے جموں و کشمیر کی بھارت میں شمولیت کے 73سال مکمل ہورہے ہیں جو گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین تنازعہ کا باعث چلا رہا ہے۔پیر کو اپنے ایک مشترکہ آرٹیکل میں معروف صحافیوں نے کہا ہے کہ ہندوستان میں ، 27 اکتوبر کو "یوم الحاق” کے طور پر منایا جائے گا۔ لیکن پاکستان میں کشمیریوں کے لئے یہ دن یوم سیاہ کے طور پر منایاجاتا ہے۔جیسے جیسے نریندر مودی کی کشمیر یوں کے ساتھ سفاکیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سال کی تقریبات اتنی ہی غمگین ہوں گی۔پچھلے سال پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے کشمیریوں پر سخت پابندیاں عائد اور وہ مسلسل فوجی محاصرے میں ہیں۔اس خصوصی حیثیت کے تحت کشمیر کے مستقل باشندوں کو خصوصی مراعات حاصل تھیں ، جن میں ریاستی سرکاری ملازمتیں اور جائیداد کے مالکانہ حقوق شامل تھے۔یہ ہندوستان کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کی حیثیت سے ریاست کے الگ الگ تشخص کی علامت تھی۔پانچ اگست کے بھارتی اقدامات کے بعد سے ان میں سے بہت سے حقوق کو مزید قانونی تبدیلیوں کے ذریعہ پامال کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتیں جو پہلے کشمیریوں کے لئے مختص تھیں اب ہندوستانی شہریوں کے لئے کھول دی گئی ہیں۔ سکونتی حقوق کی تنسیخ کو بھی آسان بنا دیا گیا ہے۔کورونا وائرس پھیلنے کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھاری تعداد میں مسلح پولیس کے اہلکار سڑکوں پر نظر آنے لگے جبکہ مواصلات کے بندش کے بعد ، انٹرنیٹ تک رسائی اور مواصلات کے دیگر ذرائع بھی محدود کر دئے گئے۔صحافیوں کو بھی ہراساں اور قید کرنے کے واقعات میں اضافی ہوا۔ تقریبا 400 صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے کشمیری صحافی عاصف سلطان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو دو سال سے زیادہ عرصہ سے جیل میں ہے۔صرف گذشتہ ہفتے ہی ، انگریزی زبان کے ایک روزنامہ کشمیر ٹائمز کے دفتر کو بھارتی حکام نے سیل کردیا۔املاک کو تباہ کردیا گیا اور بے گناہ لوگ اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یکم جنوری سے 20 جون کے درمیان 229 ہلاکتیں ہوئیں جن میں 32 عام شہری ، 54 سرکاری فوج اور 143 حریت پسند تھے۔کسی نے سوچا ہوگا کہ یہ برطانوی حکومت کے لئے باعث تشویش معاملہ ہوگا ، جو حالیہ مہینوں میں خود کو انسانی حقوق کا محافظ بنانے میں پیش پیش رہاہے۔اس سال کے اوائل میں ڈومینک راب نے انسانی حقوق پامال کرنے والوں پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا،جسے دنیا میں بھلائی کے لئے برطانیہ کاعزم قرار دیا گیا ہے۔فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس نے گذشتہ سال دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لئے ایک عام مہم شروع کی تھی،جو مسلسل یہ آگاہی پھیلا رہا ہے کہ۔دنیا بھر میں صحافیوں پر حملوں کے خطرات ہیں اور اظہار رائے کی آزادی سمیت بنیادی انسانی حقوق کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ پچھلے سال اگست میں راب نے بھارت سے ان کے اقدامات کے بارے میں "تشویش کا اظہار کیا” ، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔برطانیہ کے اس وقت ہندوستان میں ہائی کمشنر ، سر ڈومینک اسکوتھ بھی اسی طرح بے بس تھے۔انہوں نے کہا کہ "برطانیہ کی پوزیشن میں ایک ڈگری بھی تبدیلی نہیں آئی ہے… ایک سال قبل کی طرح ہماری موقف آج بھی وہی ہے ، یعنی کشمیری عوام کی امنگوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ہندوستانی حکومت اور پاکستانی حکومت کے مابین دوطرفہ انداز میں حل کرنا ہوگا۔برطانوی ایشیاء کے وزیر نائجل ایڈمس نے واضح کیا کہ بظاہر حکومت اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے اور وہ یہ کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کو ہی کشمیر سے متعلق پائیدار سیاسی حل تلاش کرنا ہے۔








