اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):جنوبی ایشیا میں ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے نہ صرف نجی شعبہ کی ترقی متاثرہو رہی ہے بلکہ چین کے" ایک سڑک ایک خطے" جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبہ سے بھی علاقائی ممالک خاطر خواہ استفادہ سے محروم ہیں۔ ورلڈ بینک کی "بزنس ریگولیشنز ان سائوتھ ایشیا اینڈ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو " رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک …
جنوبی ایشیا میں ریگولیٹری مسائل سے ترقی متاثرہونے کے ساتھ ساتھ ” ایک سڑک ایک خطہ” منصوبہ سے بھی ممالک خاطر خواہ استفادہ سے محروم ہیں۔ ورلڈ بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔27نومبر (اے پی پی):جنوبی ایشیا میں ریگولیٹری مسائل کی وجہ سے نہ صرف نجی شعبہ کی ترقی متاثرہو رہی ہے بلکہ چین کے” ایک سڑک ایک خطے” جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبہ سے بھی علاقائی ممالک خاطر خواہ استفادہ سے محروم ہیں۔ ورلڈ بینک کی "بزنس ریگولیشنز ان سائوتھ ایشیا اینڈ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ” رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران جنوبی ایشیائی ممالک میں ریگولیٹری ماحول میں بہتری ہوئی ہے تاہم بعض مسائل کی وجہ سے اب بھی نجی شعبہ کی ترقی متاثرہو رہی ہے اور چین کے ایک سڑک اور ایک خطے جیسے بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبہ سے علاقائی ممالک خاطر خواہ استفادہ نہیں کر سکتے ۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں ریگولیٹری قوانین پیچیدہ جبکہ اخراجات زیادہ ہیں اور بعض اجازت ناموں کے حصول کے لئے مختلف اداروں سے منظوری حاصل کرنا پڑتی ہے جس کی وجہ سے وقت اور پیسہ کا ضیاع ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ نے کہا کہ ریگولیٹری کے قوانین میں سہولت اور آسانیا ںفراہم کرکے جنوبی ایشیا کے ممالک نہ صرف نجی شعبہ کو اس کی استعداد کے مطابق ترقی دے سکتے ہیں بلکہ علاقائی رابطوں کے فروغ سے چین کے بڑے منصوبے سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔








