اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے توہین مذہب پر عالمی قانون سازی کا مطالبہ اور کشمیر کے حق میں قرارداد موجودہ حکومت کی کامیابی ہے، حافظ طاہر محمود اشرفی کی پریس کانفرنس

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مشرق وسطیٰ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے توہین مذہب پر عالمی قانون سازی کا مطالبہ اور کشمیر کے حق میں قرارداد موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کے ساتھ پاکستان کے مثالی تعلقات ہیں، پاکستان میں رہنے …

اسلام آباد۔30نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی مشرق وسطیٰ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے توہین مذہب پر عالمی قانون سازی کا مطالبہ اور کشمیر کے حق میں قرارداد موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کے ساتھ پاکستان کے مثالی تعلقات ہیں، پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کوکسی بھی خوف کا احساس نہیں ہونا چاہئے، اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، تمام آسمانی مذاہب امن، سلامتی اور اعتدال کا حکم دیتی ہیں، جبری مذہب کی تبدیلی اور شادیوں کے معاملات کو غیر مسلم برادری کے ساتھ مل کر حل کریں گے۔ بیٹی مسلمان کی ہو یا غیر مسلم کی، اس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا ااظہار انہوں نے واث روڈ پر کیتھڈرل چرچ میں بشپ آزاد مارشل، آرچ بشپ سبسٹسن فرانسس شا، پادری ایمائنول کھوکھر، پادری یعقوب، مولانا زبیر عابد، مولانا اسد اﷲ فاروق، ڈاکٹر فیاض رانجھا کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مسیحی برادری نے کرسمس تقریبات میں کورونا کے حوالے سے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چھ مسیحی ورکرز پر توہین رسالت ناموس کا الزام متفقہ طور پر متحدہ علماءبورڈ نے مسترد کیا، توہین ناموس رسالت کے قانون کا غلط استعمال رکا ہے، توہین ناموس رسالت کے قانون میں تبدیلی کا تصور ممکن ہی نہیں، اس قانون کی وجہ سے آج رمشاءمسیح اور سینکڑوں و دیگر افراد زندہ ہیں۔ حکومت اور مسیحی برادری کے مسائل کے حل کے لئے مسیحی قیادت کے ساتھ رابطہ کمیٹی قائم کی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے توہین مذہب پر عالمی قانون سازی کا مطالبہ اور کشمیر کے حق میں قرارداد موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو حوس کی تسکین کے لئے دین اسلام کا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ غیر مسلم پاکستانی دنیا میں پاکستان کے بہترین سفیر ثابت ہوں گے، ہم نے مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کام کرنا ہے۔ پاکستان کی طرح ہر ملک کو اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی بنانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور بحرین کے ساتھ پاکستان کے مثالی تعلقات ہیں جس کی ماضی کے دس سال میں مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہاکہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کے حل اور توہین مذہب کی روک تھام کے لئے عالمی سطح پر قانون سازی کے لئے آواز اٹھانا پاکستان کی فارن پالیسی کی کامیابی ہے۔ عالمی تنظیموں کو پاکستان کے متعلق کوئی رپورٹ شائع کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہئے۔ غیر مسلموں کو قتل کرنے والے تمام ملزمان قانون کی گرفت میں ہیں، کسی گروہ یا شخص کو کسی پاکستانی کا ماورائے قانون قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس موقع پر پاکستان کونسل آف چرچرز کے چیئرمین بشپ آزاد مارشل نے حافظ طاہر محمود اشرفی کو وزیراعظم کی جانب سے نمائندہ خصوصی بنائے جانے کو غیر مسلموں کے لئے نیک شگون قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیاکہ وہ غیر مسلموں کے پیچیدہ مسائل حل کرانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اقلیتوں کی پہلے کوئی آواز نہیں تھی۔ حافظ طاہر محمود اشرفی کے آنے سے اقلیتوں کو آواز مل گئی ہے۔ بشپ آزاد مارشل نے مزید کہا کہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی کم سن بچیوں کی جبری شادیوں میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں قانونی تحفظ چاہئے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا کہ وزیراعظم عمران خان کی واضح ہدایات ہیں کہ غیر مسلموں کو وہ تمام حقوق مہیاءکئے جائیں گے جو آئین پاکستان کے تحت ان کا حق ہے، کسی غیر مسلم کے حقوق کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نبیﷺ رحمت اللعالمین بن کر دنیا میں تشریف لائے تھے انہوں نے پیار محبت اور حق کا راستہ دکھاتے ہوئے دین اسلام کو دنیا میں پھیلایا۔ حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرام کے دور میں کسی شخص کو تلوار کی طاقت سے دین اسلام میں شامل نہیں کیا گیا، موجودہ حکومت کا بھی واضح پیغام ہے کہ کسی شخص کو اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی حوس کی تسکین کے لئے کسی غیر مسلم لڑکی کو زبردستی مسلمان کرے۔ انہوں نے کہا کہ میری وزیر قانون، وزیر مذہبی امور اور وزیر انسانی حقوق سے بات ہوئی ہے، غیر مسلموں کے مقدسات کا کیس ٹو کیس جائزہ لیا جائے گا اور انہیں دین اسلام کے اصولوں اور آئین پاکستان کے مطابق مکمل انصاف مہیاءکیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ علماءبورڈ کے پاس 104 توہین مذہب کے حوالے سے کیس آئے جن کا بغور جائزہ لیا گیا تو اس میں سے 100 مقدمات میں لوگوں کو قرآن و سنت کے مطابق ریلیف دیا گیا۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے چند روز قبل چھ مسیحی سینٹری ورکرز پر جھوٹے توہین مذہب کیس کے اخراج کے متعلق صحافیوں کو بتایا کہ علماءاسلام ار حکومت نے بروقت مداخلت کر کے ان بے گناہ مسیحی ورکروں کو رہا کروایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کا ملک ہے، دونوں نے مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے کردار ادا کرنا ہے۔ حافظ طاہر محمود اشرفی نے دو روز قبل عالمی تنظیموں کی جانب سے چھ پاکستانی غیر مسلموں کے قتل کے متعلق رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ عالمی تنظیموں کو پاکستان کے متعلق رپورٹ شائع کرنے سے پہلے زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہئے۔ حقیقت میں جن چھ غیر مسلموں کو قتل کیا گیا تھا ان تمام کے قاتل گرفتار ہو چکے ہیں اور اس کیس کے حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ جس طرح پاکستان سعودی عرب کے خلاف بین الاقوامی پروپیگنڈا ہوتا رہتا ہے اسی طرح چین کے خلاف بھی پروپیگنڈا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کہیں بھی مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے پاکستان نے ہمیشہ مسلمانوں کے حقوق کے لئے حکومتی سطح پر آواز اٹھائی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنا واضح اور دوٹوک موقف دے چکی ہے اور جہاں تک پاکستان کا دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کا سوال ہے تو ماضی کی نسبت گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان کے اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے جس کا واضح ثبوت او آئی سی کا حالیہ اجلاس ہے جس میں حکومت پاکستان کے تمام نکات کو ایجنڈے کا حصہ بنا کر عالمی سطح پر قانون سازی کیلئے آواز اٹھائی گئی ہے۔