نیویارک۔2دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہےکہ دنیا "ماحولیاتی تباہی" کے دہانے پر ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گٹیرس نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ رواں سال اب تک ریکارڈ کیے جانے والے تین گرم ترین سالوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے ، انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے عالمی ماحولیاتی رپورٹ ’’ 2020،دی پرویژنل سٹیٹ آف …
دنیا "ماحولیاتی تباہی” کے دہانے پر ہے،رواں سال گرم ترین ریکارڈ سال ثابت ہوا ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
نیویارک۔2دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہےکہ دنیا "ماحولیاتی تباہی” کے دہانے پر ہے۔اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گٹیرس نے بدھ کے روز اپنے بیان میں کہا ہے کہ رواں سال اب تک ریکارڈ کیے جانے والے تین گرم ترین سالوں میں سے ایک ثابت ہوا ہے ، انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے عالمی ماحولیاتی رپورٹ ’’ 2020،دی پرویژنل سٹیٹ آف دی گلوبل کلائمیٹ رپورٹ ‘‘کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ، سن 1850 میں جدید ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سے گذشتہ چھ سال 2015 سے 2020 تک ،گرم ترین رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ 2020 کی رپورٹ ہمیں بتا رہی ہے کہ ہم ماحولیاتی تباہی سے کتنے قریب آ چکے ہیں ،انہوں نے نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں’’دی سٹیٹ آف دی پلینٹ‘‘کےموضوع پر تقریر میں کہا کہ ہولناک آگ اور سیلاب ، طوفان باد وباراں اور سمندری طوفان تیزی سے نئے معمول کی حیثیت اختیار کر رہے ہیں،انسانیت فطرت کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، یہ خودکشی ہے کیونکہ فطرت ہمیشہ پلٹ کر وار کرتی ہے اور یہ اس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جوش کے ساتھ ہو رہاہے۔اس موقع پر عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے سربراہ پیٹری تالس نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق 2015 کے پیرس معاہدے میں عالمی حدت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم حد تک کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، جبکہ رکن ممالک اس اضافہ کو 1.5 سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کی کوششیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 2020 ، بدقسمتی سے ، ہماری آب و ہوا کے لئے ایک اور غیر معمولی طور گرم ترین سال ہے جس کا درجہ حرارت ’پری انڈسٹریل‘ دور سے تقریبا 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ پر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات کا ہر پانچ میں کم از کم ایک امکان موجود ہے کہ 2024 تک درجہ حرارت میں 1.5 سنٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا۔ ڈبلیو ایم او نے کہا کہ 2020 میں ایسا لگتا ہے کہ یہ اس دہائی کا دوسرا گرم ترین سال ہے۔رپورٹ میں میلبورن میں موناش یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہر نیویول نکولس نے کہا کہ یہ گلوبل وارمنگ میں اضافے کا عہد ہے۔رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عالمی درجہ حدت تباہ کن اضافے کو محدود کرنے کے لئے کوششوں میں تیل ، گیس اور کوئلے کی پیداوار میں ایک سال میں چھ فیصد کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ تالس نے کہا کہ 2020 میں زمین ، سمندر اور خاص طور پر آرکٹک ریجن میں انتہائی درجہ حرارت دیکھا گیا۔جس کی وجہ سے افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیاء کے کچھ حصوں میں سیلاب کی وجہ سے بڑے پیمانے پر آبادی بے گھر ہوگئی اور لاکھوں افراد کے لئے غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا۔رواں سال 20 جون کو شمالی سائبیریا میں گرمی 38 سینٹی گریڈ تک پہنچ گئی ، یہ جزوی طور پر آرکٹک سرکل کے شمال میں کہیں بھی درجہ حرارت میں سب سے زیادہ ہے۔








