نیویارک۔3دسمبر (اے پی پی):کوروناوائرس کے لیے ویکسین کےایڈوانس خریداری معاہدوں (اے پی اے) کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تقسیم میں مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی عزم میں کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے ویکسین ’’کویکس ‘‘اور ’’سی ٹیپ ‘‘کا نام لیتےہوئے کہاکہ اس سہولت کی دستیابی کے لیے عالمی اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔دنیا کی حکومتوں کو بھی ویکسین کی پیداوار، تقسیم اور منصفانہ قیمتوں کے …
اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے صدر منیر اکرم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
نیویارک۔3دسمبر (اے پی پی):کوروناوائرس کے لیے ویکسین کےایڈوانس خریداری معاہدوں (اے پی اے) کا ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تقسیم میں مساوات کو برقرار رکھنے کے لیے اجتماعی عزم میں کمزوری نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے ویکسین ’’کویکس ‘‘اور ’’سی ٹیپ ‘‘کا نام لیتےہوئے کہاکہ اس سہولت کی دستیابی کے لیے عالمی اجتماعی عزم ناگزیر ہے۔دنیا کی حکومتوں کو بھی ویکسین کی پیداوار، تقسیم اور منصفانہ قیمتوں کے تعین سے متعلق تمام معاملات میں شفافیت کرنے کا عہد کرنا ہوگا،دوسرا ، ہر حکومت کو عوام کی ضروریات کا جوابدہ ہونےکے لئے ترغیب دی جانی چاہئے۔ جیسا کہ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے مشورہ دیا ہے ، ممالک کو اپنے لوگوں اور ان کی معیشتوں کو زندہ رکھنے کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ یہ یہ بات عیاں ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض سے بازیابی کے لئے مالی گنجائش نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ، اس بحران میں وزیر اعظم پاکستان ، جناب عمران خان ترقی پذیر ممالک کو مالی مدد کے لئے یہاں ہنگامی منصوبہ تجویز کریں گے۔اگر ترقی پذیر ممالک میں معاشی تباہی یا کوئی انسانی تباہی آتی ہے تو ، اس سے عالمی معاشی بحالی رک جائے گی اور ایس ڈی جیز(مربوط ترقیاتی اہداف) کی کامیابیاں محض گمان بن کر رہ جائیں گی۔انہوں نے کہاکہ وسائل کی تعیناتی میں ، حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو لوگوں کو پہلے سامنے رکھنا چاہئے، کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ہمارے معاشروں میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کو غربت سے باہر نکالنے اور حیات نو پیدا کرنے کے لیے، پائیدار بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری بہت اہم ہو جائےگی اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اوراقتصادی و سماجی کونسل کے صدر منیر اکرم نے مزید کہا کہ بحالی کے اس سفر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے ہاتھ تھامنے ہوں گے،تحقیق اور ترقی کے مقاصد ، بین الاقوامی پیٹنٹ نظام اور معیشتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کو ایس ڈی جی اور ماحولیاتی مقاصد کے ساتھ جوڑا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ یہ خصوصی سیشن ان اہم مقاصد کے حصول میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے اعتماد ہے کہ’’ ای سی او ایس او سی‘‘(اقتصادی و سماجی کونسل)،آئندہ سال اپریل میں ترقی کے لئے فنانسنگ پر فورم ،مئی میں سائنس اور ٹیکنالوجی اور انوویشن پرفورم اور جولائی میں اعلی سطحی سیاسی فورم، اس خصوصی سیشن اور اس کے انعقاد کے نتائج کوسامنے لاتے ہوئے کوویڈ بحران سے بحالی کے لیےایک لچکدار ڈھانچے کی تعمیر، ایس ڈی جی کے مقاصد کے حصول اورماحولیاتی تباہی سے بچائو کا باعث ثابت ہو گا۔انہوں نے کہاکہ یہ بین الاقوامی یکجہتی کے اظہار اور ہمارے اچھے الفاظ کہے جانے والے الفاظ کو ٹھوس اور مخصوص اقدامات میں بدلنے کا وقت ہے۔یاد رہے کہ اقتصادی و سماجی اور ماحولیاتی کونسل، اقوام متحدہ کے نظام کا دل ہےجو دنیاکی سماجی،اقتصادی اور ماحولیاتی، سہ جہتی مربوط ترقی کے لیےاہداف مقرر کرتا ہے۔








