اپوزیشن کو ملک کی ترقی و استحکام کی کوئی فکر نہیں ہے، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ملک کی ترقی و استحکام کی کوئی فکر نہیں ہے، اپوزیشن پاکستان کے مفادات کا مقابلہ اپنے ذاتی مفادات کے ساتھ کر رہی ہیں، پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، اگر اپوزیشن رہنمائوں نے استعفے دینے ہیں تو اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنے استعفے سپیکر قومی اسمبلی …

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اپوزیشن کو ملک کی ترقی و استحکام کی کوئی فکر نہیں ہے، اپوزیشن پاکستان کے مفادات کا مقابلہ اپنے ذاتی مفادات کے ساتھ کر رہی ہیں، پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، اگر اپوزیشن رہنمائوں نے استعفے دینے ہیں تو اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ 25 سے 30 سال کے دوران دو سیاسی جماعتوں کے درمیان اقتدار کے لئے باریاں لگی ہوئی تھیں، پاکستان تحریک انصاف نے ان کا یہ کھیل ختم کیا، سیاسی جماعتوں کے رہنما کرپشن و بدعنوانی میں ملوث رہے، پاکستان تحریک انصاف نے ان کے خلاف احتساب کا عمل شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیٹف کے معاملے پر اپوزیشن نے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی، فیٹف کا معاملہ وزیراعظم عمران خان کا ذاتی معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ ملکی سالمیت کا معاملہ تھا، جب وزیراعظم عمران خان فیٹف کے معاملے پر پاکستان کی تقدیر بدلنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس وقت اپوزیشن نے نیب کی 34 شقوں میں ترامیم کرنے کا مسودہ پیش کر دیا، نیب کی شقوں میں ترامیم سے پاکستان کی تقدیر نہیں بدلنی تھی بلکہ یہ لوگ اپنی کرپشن کو بچانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن کا وطیرہ بن چکا ہے، مسلم لیگ (ن) کی قیادت ملک سے فرار ہے، ان لوگوں نے اپنے دور اقتدار میں کرپشن کی، اسحاق ڈار ملک سے باہر ہیں، سابق وزیراعظم نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور عدالت کی جانب سے مفرور قرار دیئے جا چکے ہیں، اپوزیشن کو ملک کی ترقی و استحکام کی کوئی فکر نہیں ہے، اپوزیشن پاکستان کے مفادات کا مقابلہ اپنے ذاتی مفادات کے ساتھ کر رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں فیصل واوڈا نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے کی بے ضابطگیاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہی سامنے لائی، اس کے بعد اپوزیشن کو پتہ چلا کہ اس کا کریڈٹ اپوزیشن نہیں لے سکتی، پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کوئی حکومت اپنی ہی کسی بے ضابطگی پر ایکشن لے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو چیزیں 72 سال سے نہیں ہوئی وہی عمران خان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، پاکستان تحریک انصاف ملک کے اداروں اور عدالتوں کا احترام کرتی ہے، کوئی بھی وزیر اپنی وزارت اور اس کے ماتحت اداروں کا سربراہ ہوتا ہے اور اپنی وزارت سے متعلق کسی بھی معاملے پر وہ وزیراعظم کو جوابدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے نیب میں ترامیم کی جو بات کی تھی یہ سیکرٹ ڈاکومنٹ تھا، وزیراعظم عمران خان نے اسے پبلک کرنے کا کہا کہ یہ حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے، یہ لوگ اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیں گے، اپوزیشن رہنما بار بار استعفے دینے کی بات اس لئے کرتے ہیں کہ حکومت ان کے ساتھ بات کرے لیکن اگر اپوزیشن رہنمائوں نے استعفے دینے ہیں تو اس میں تاخیر نہ کریں اور اپنے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کریں۔