اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں پاکستان کے سفارتخانے اور اس کے قونصل خانوں نے 29 ستمبر کو نافذ افغان شہریوں کے لئے پاکستانی حکومت کی نئی لبرل ویزا پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنا دیا، جس کے تحت افغان شہریوں کی پاکستان آمد ورفت میں آسانی ہوگی۔ منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق ، سہولت کار ویزا پروسیسنگ کے لئے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں،جس کے تحت …
افغانستان میں پاکستان کے سفارتخانے اور اس کے قونصل خانوں نے 29 ستمبر کو نافذ افغان شہریوں کے لئے پاکستانی حکومت کی نئی لبرل ویزا پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنا دیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں پاکستان کے سفارتخانے اور اس کے قونصل خانوں نے 29 ستمبر کو نافذ افغان شہریوں کے لئے پاکستانی حکومت کی نئی لبرل ویزا پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنا دیا، جس کے تحت افغان شہریوں کی پاکستان آمد ورفت میں آسانی ہوگی۔ منگل کو جاری ایک بیان کے مطابق ، سہولت کار ویزا پروسیسنگ کے لئے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں،جس کے تحت ویزا درخواست فارم جمع کرنے کے لئے ونڈوز کی تعداد 7 سے بڑھا کر 17 کردی گئیں ، جس کے نتیجے میں درخواست دہندگان کے لئے ویزا پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان آنے کے خواہشمند تمام زمرے تمام۔کیٹیگریزکے لئے طویل مدتی ملٹی پل ویزے جاری کئے جائیں گے۔ حکومت کی ہدایت پر کابل میں سفارتخانہ اور جلال آباد ، قندھار اور مزارشریف میں قونصل خانوں نے اقدامات اٹھاتے ہوئے ، افغان شہریوں کی سہولت کے لئے آن لائن ویزا / ای ویزا سسٹم متعارف کرایا ہے۔ اس سے درخواست دہندگان چوبیس گھنٹے ویب سائٹ visa.nadra.gov.pk پر آن لائن ویزا کے لئے درخواست ددے سکتے ہیں۔ طبی علاج،طلباء اور کاروباری افراد جبکہ خواتین ویزا درخواست دہندگان کے لئے بھی الگ الگ ونڈوز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ طلبہ کوپاکستان میں تعلیمی پروگرام کے مطابق تعلیم کے پورے دورانیے کے لئے ویزے جاری کئے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ، سفارتخانے اور قونصل خانوں نے صرف اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائدویزے جاری کیے ہیں۔ اس کے علاوہ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران سفارتخانے کے ذریعہ 12،000 کے قریب آن لائن ای ویزا جاری کئے ہیں۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ تاجروں کے سوا افغان شہریوں کے ویزا بغیر کسی فیس کے دیئے جاتے ہیں۔ سفارت خانہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سفارتخانے کا کوئی ویزا ایجنٹ نہیں۔ درخواست دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایجنٹ یا مڈل مین کو ویزا فیس چارجز ادا نہ کریں۔








