پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے پر عزم ہے، ہمیں افغانستان کے بعض سرکاری و نجی حلقوں کی جانب سے منفی بیانات پر تشویش ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے پر عزم ہے،تاہم ہمیں افغانستان کے بعض سرکاری و نجی حلقوں کی جانب سے منفی بیانات پر تشویش ہے۔ترجمان نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ افغان …

اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے پر عزم ہے،تاہم ہمیں افغانستان کے بعض سرکاری و نجی حلقوں کی جانب سے منفی بیانات پر تشویش ہے۔ترجمان نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے وقت میں جب کہ افغان امن عمل اور تنازعہ کے سیاسی حل کی طرف حوصلہ افزا پیشرفت جاری ہے اور افغان عوام اور عالمی سطح پر قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف اور تعریف کی جارہی ہے،ایسے وقت میں ہمیں افغانستان کے بعض سرکاری و نجی حلقوں کی جانب سے منفی بیانات پر تشویش ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ سلامتی اور انٹلیجنس سمیت تمام باہمی امور کو متعلقہ دوطرفہ فورمز اور چینلز کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ افغانستان۔پاکستان ایکشن پلان برائے امن و یکجہتی (اے پی اے پی پی ایس) کے متعلقہ ورکنگ گروپس اس طرح کی بات چیت کے لئے مناسب ادار ہ جاتی فورمز موجود ہیں۔اس کے علاوہ نومبر 2020 میں وزیر اعظم پاکستان کے دورہ کابل کے دوران ، دونوں ملکوں نے سلامتی اور امن عمل سے متعلق امور پر اپنے رابطوں کو مزید مستحکم کرنے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ عوامی الزام تراشیاں امن عمل کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لئے مشترکہ کوششوں کے لئے بھی نقصان دہ ہیں۔پاکستان اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور یہ تنازعہ صرف پر امن مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس مقصد کےحصول کیلئے پاکستان ، افغان عوام اور حکومت کی زیرقیادت امن عمل کے لئے سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہے۔ ترجمان نے کہا کہ رواں سال کے دوران پاکستان کی سنجیدہ کوششوں سے امن عمل میں اہم پیشرفتوں میں مدد ملی ، جن میں 29 فروری کو امریکہ طالبان امن معاہدہ؛ 12 ستمبر کو انٹرا افغان مذاکرات کا آغاز۔ اور 2 دسمبر کو قواعد و ضوابط پر افغان جماعتوں کے مابین معاہدہ شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ 5 جنوری 2021 سے مزاکرات ایک اہم اور نازک مرحلے میں داخل ہوں گے ، مذاکرات کار مستقبل کے جامع سیاسی تصفیہ سے متعلق اہم معاملات پر توجہ مرکوز کریں گے۔ترجمان نے مزید کہا کہ انٹرا افغان مذاکرات کے اس نازک مرحلے میں مزاکرات کاروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ الزامات سے باز رہیں اور افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے وسیع مقصد کے حصول کے لئے دانشمندی اور وژن کا مظاہرہ کریں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان نے رواں سال کے دوران افغانستان میں بڑھتی ہوئی تشدد کی سطح پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر تشدد میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ افغان حکومت داخلی سلامتی ، امن و امان اور افغان عوام کے تحفظ کے لئے اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مؤثر ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے سلامتی اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے شعبے میں ہر ممکن تعاون کے لئے تیار ہے۔ترجمان نے کہا کہ حال ہی میں ، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے جس میں افغانستان – پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ (اے پی ٹی ٹی اے) پر نظر ثانی اور پی ٹی اے پر بات چیت شروع کرنے سمیت اہم دو طرفہ امور پر شامل ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت اعلی سطح پر رابطے اور دوطرفہ دورے بھی پاکستان اور افغانستان کے مابین تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا مظہر ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ دونوں فریقوں کو چاہئے کہ وہ دو طرفہ تعلقات میں اس پیشرفت کے تسلسل کو جاری رکھیں اور اندرونی اور علاقائی مداخلت کاروں تخریب کاروں کے عزائم کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ، مستحکم ، متحد ، آزاد ، جمہوری ، خودمختار اور خوشحال افغانستان کی حمایت کرتا رہیگا۔

مزید خبریں