اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ نئے سال میں کورونا کا چیلنج درپیش نہ ہو، ویکسین آ گئی ہے ، پاکستان میں بھی آجائے گی، کورونا سے تعلیم بہت متاثر ہوئی، اپوزیشن کے جتنے پلان تھے صرف کورونا یاسردی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئے بلکہ عوام نے ان کے بیانیے کو پذیرائی نہیں دی، ہماری خواہش ہے کہ اپوزیشن …
دعا ہے کہ نئے سال میں کورونا کا چیلنج درپیش نہ ہو، ویکسین آ گئی ہے ، پاکستان میں بھی آجائے گی، کورونا سے تعلیم بہت متاثر ہوئی‘وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ نئے سال میں کورونا کا چیلنج درپیش نہ ہو، ویکسین آ گئی ہے ، پاکستان میں بھی آجائے گی، کورونا سے تعلیم بہت متاثر ہوئی، اپوزیشن کے جتنے پلان تھے صرف کورونا یاسردی کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئے بلکہ عوام نے ان کے بیانیے کو پذیرائی نہیں دی، ہماری خواہش ہے کہ اپوزیشن مذاکرات کی ٹیبل پر آئے۔ جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک ناکام ہو چکی ہے، مریم نواز نے پہلے نوازشریف حکومت کو نقصان پہنچایا اب پارٹی اور پی ڈی ایم کو بند گلی میں لے گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے ہر ایشو پر مذاکرات ہوسکتے ہیں سوائے تین چیزوں کے، وزیراعظم کے استعفے، قبل از وقت الیکشن اور این آر او کے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے ہر رہنما کی الگ رائے ہے، کبھی 31 دسمبر اور 31 جنوری کی تاریخ دیتے ہیں، ن لیگ کہتی ہے کہ لانگ مارچ ہو سکتا ہے اور اپریل تک بھی اسے لے کر جاسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 2013ء اور 2018ء کے الیکشن میں بہت فرق ہے،2018ء میں پی پی پی اور ن لیگ نے مل کر نگران حکومت اور الیکشن کمشنر بنائے تھے سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن جب الیکشن ختم ہوا تو انہوں نے 24 پٹیشنیں درج کرائیں، 15 ن لیگ اور 9 پی پی پی کی طرف سے،لیکن سب نے کہا کہ الیکشن ٹھیک ہوا ہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ 2013ء میں ہم نے چار حلقے کھولنے کا کہا اور جب وہ کھلے تو چاروں کے نتائج مختلف تھے۔چارٹر آف ڈیمو کریسی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں نے چارٹر آف ڈیمو کریسی کی خلاف ورزی کی ، شہبازشریف اور بلاول بھٹو نے کھل کر ایک دوسرے کے خلاف تقاریرکیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے پاکستان مخالف آوازیں اٹھیں اور ملک کے باعزت ادارے فوج کے خلاف بھی کھل کر زبان درازی کی گئی، بلوچستان میں ہمارے فوجی شہید ہوئے لیکن انہوں نے کسی جگہ پر بھی دعا نہیں کی۔








