کراچی۔29جنوری (اے پی پی):قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ہماری ٹیم کے 33رنز پر 4 آئوٹ ہونے کے بعد اظہر علی اور فواد عالم نے بہت اچھا کھیلا جس کے بعد ٹیم کا اعتماد بحال ہوا، فواد عالم نے لمبی اننگ کھیل کر ٹیم کو اعتماد فراہم کیا جس سے قومی ٹیم کو اندازہ ہوا کہ ہم یہاں سے میچ جیت …
اظہر علی اور فواد عالم نے بہت اچھا کھیلا جس کے بعد ٹیم کا اعتماد بحال ہوا، کپتان بابر اعظم

مزید خبریں
کراچی۔29جنوری (اے پی پی):قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچ کے پہلے دن ہماری ٹیم کے 33رنز پر 4 آئوٹ ہونے کے بعد اظہر علی اور فواد عالم نے بہت اچھا کھیلا جس کے بعد ٹیم کا اعتماد بحال ہوا، فواد عالم نے لمبی اننگ کھیل کر ٹیم کو اعتماد فراہم کیا جس سے قومی ٹیم کو اندازہ ہوا کہ ہم یہاں سے میچ جیت سکتے ہیں، فہیم اشرف نے بھی بہت اچھی بیٹنگ اور بالنگ کی، انہوں نے نیوزی لینڈ میں بھی بہت اچھی بیٹنگ کی تھی، کراچی میں کنڈینشز ایسی ہی ہوتی ہیں، سلو وکٹ تھی اور بائونس اوپر نیچے ہورہا تھا جوکہ اس وکٹ پر عموماً ہوتا ہے، اس وکٹ پر اسپینرز کو بھی مدد مل رہی تھی۔۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں کامبابی کے بعد جمعہ کو آن لائن پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ بابر اعظم نے کہا کہ مقای کنڈینشنز میں جیتنا اور دیگر ممالک میں جاکر جیتنے میں بہت فرق ہوتا ہے، ملک سے باہر جیتنے سے ٹیم کا اعتماد پختہ ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بیٹنگ کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو ملک سے باہر اچھی بیٹنگ کرنے کے بعد بیٹسمین کا لیول مختلف ہوجاتا ہے، اسی طرح جب ٹیم باہر کے ممالک میں جیتی ہے تو اس سے ٹیم کا کانفیڈیس بہت اچھا ہوجاتا ہے اور ایک مضبوط ٹیم بن جاتی ہے، ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم ملک سے باہر جاکر جیتیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح نعمان علی کھیلے ہیں اس سے نہیں لگتا کہ وہ کسی غیر ملکی ٹیم سے کھیل رہے تھے جس سے کانفیڈنس آتا ہے جو کہ کھلاڑی کے لئے اچھا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کانفیڈنس ہوگا تو کھلاڑی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا ، تمام کھلاڑیوں کو یہی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا کانفیڈنس بحال رکھیں۔ بابراعظم نے کہا کہ جنوبی افریقہ جیسی بڑی ٹیم کے خلاف ہمیں جیتنا بہت ضروری تھا کیونکہ ہم نے نیوزی لینڈ کی سیریز اچھی نہیں کھیلی، یہ میچ ہوم کنڈینشز میں ہوا اور ایک بڑی ٹیم کافی عرصہ بعد پاکستان آئی ہے۔ اس میچ میں فاسٹ بالرز، اسپینرز، بیٹسمین اور فیلڈرز سب نے ہی کنٹری بیوٹ کیا ہے، میچ جیتنے میں تقریباً تمام کھلاڑیوں کی کنٹری بیوشن شامل ہوتی ہے، جیت کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے۔








