اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی بحران سابق حکومت نے جان بوجھ کر پیدا کیا۔ 2017 میں جب انہیں یہ نظر آنے لگا کہ پاناما لیکس کی وجہ سے وہ دوبارہ حکومت میں نہیں آسکیں گے تو انہوں نے جان بوجھ کر حالات خراب کئے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات بہت پہلے …
موجودہ معاشی بحران سابق حکومت نے جان بوجھ کر پیدا کیا، معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا انٹرویو

مزید خبریں
اسلام آباد۔14فروری (اے پی پی):معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی بحران سابق حکومت نے جان بوجھ کر پیدا کیا۔ 2017 میں جب انہیں یہ نظر آنے لگا کہ پاناما لیکس کی وجہ سے وہ دوبارہ حکومت میں نہیں آسکیں گے تو انہوں نے جان بوجھ کر حالات خراب کئے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات بہت پہلے کہہ دی تھی۔ میں نے معروف میگزین ’’نیریٹوز‘‘ (Narratives ) کے دسمبر 2017 کے شمارے میں اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا تھا کہ جس طریقے سے حالات کو خراب کیا جا رہا ہے اس سے یہ نظر آرہا ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے پاناما ہو چکا تھا، میں کوئی سیاسی آدمی تو نہیں ہوں، میرا خیال ہے کہ پاناما کی وجہ سے اس وقت کی حکومت کافی دبائومیں آگئی تھی۔ جب ٹرائل چل رہا تھا ، ہر روز صبح دوپہر شام میڈیا دکھا رہا تھا، انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ شاید ہمیں اگلی حکومت نہ ملے تو انہوں نے سوچا کہ حالات کو اتنا خراب کر دو کہ آنے والا ان کو سنبھال نہ سکے، اور یہی ہوا کہ حالات اتنے خراب کر دیئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا حق ہے کہ حکومت پر تنقید کرے، لیکن اگر اکانومی پر نہ ہی بولے تو زیادہ بہتر ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ حالات کیسے خراب کئے گئے، ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا کہ ہماری درآمدات 2015-16 تک 41 بلین ڈالر تک تھیں، مگر بعد میں تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئیں، ہماری امپورٹس بڑھ رہی تھیں، اگر وہ چاہتے تو 2017 کے بعد درآمدات میں اضافے کو روک سکتے تھے۔ ہر طرح کے لگژری آئٹم کی امپورٹ ہو رہی تھی، کتے بلی کے کھانے امپورٹ ہو رہے تھے، شیمپو بھی امپورٹ ہو رہے تھے، موبائل فون دھڑا دھڑ آرہے تھے، گاڑیاں آرہی تھیں، جس ملک کے پاس بیلنس آف پے منٹس کا بحران تھا، وہ اڑھائی اڑھائی ہزار سی سی کی گاڑیاں امپورٹ کر رہا تھا۔ جس دکان میں جائیں دنیا بھر کے چاکلیٹ آپ کو ملیں گے، دنیا بھر کے قیمتی سے قیمتی پنیر (cheese ) آپ کو ملیں گے۔ کیا ہمیں یہ زیب دے رہا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے ٹیکس میں جو نرمیاں کی تھیں وہ بھی ایک جال تھا۔ جو ٹیکس استثنیٰ چار لاکھ روپے تھا اسے ایک جھٹکے میں 12 لاکھ پر لے گئے جس سے 5 لاکھ سے زیادہ ٹیکس دہندگان ٹیکس نیٹ سے نکل گئے۔ یہ کیا کر رہے تھے ، یہ مقبولیت کی کوشش تھی کہ دیکھیں ہم نے سب کو ٹیکس کے دائرہ سے نکال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بار بار روتے ہیں کہ ڈائریکٹ انکم ٹیکس دہندگان ہمارے ہاں پہلے ہی بہت کم ہیں۔ 12 سے 13 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے تھے۔ چاہے جتنا بھی کرتے تھے بارہ تیرہ لاکھ لوگ انکم ٹیکس دے رہے تھے۔ انہوں نے جانتے بوجھتے کہ یہ غلط ہے، ایسا کیا کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ دوبارہ اس حد کو نیچے لائے گی تو لوگ چیخیں گے۔ تب ہماری طرف کوئی نہیں دیکھے گا، ان کی طرف دیکھیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا یہ سسٹم کے ساتھ مذاق نہیں ہے، ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ آپ اسے جو بھی نام دے لیں حقیقت یہی ہے۔








