پاکستان سویڈن ، مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددبھی ممکن

اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):پاکستان اور سویڈن کے مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے، پاکستان اور سویڈن ڈیری، فنی تعلیم، ماحولیات، ٹیلی کام، متبادل توانائی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرسکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور معاشی تعاون کی بڑھوتری اور ٹیکنالوجی کی …

اسلام آباد۔13مارچ (اے پی پی):پاکستان اور سویڈن کے مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے، پاکستان اور سویڈن ڈیری، فنی تعلیم، ماحولیات، ٹیلی کام، متبادل توانائی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرسکتے ہیں جس سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور معاشی تعاون کی بڑھوتری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد حاصل ہوگی۔ پاکستان میں سویڈن کے سفیر ہینر پیرسن نے کہا ہے کہ پاک سویڈن باہمی تجارت استعداد سے کم ہے جس میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سویڈن کی باہمی تجارت 2018 کے دوران 398 ملین ڈالر تھی جو سال 2019 میں 336 ملین ڈالر تک کم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سویڈن سے کی جانے والی درآمدات 260 ملین ڈالر سے 205 ملین ڈالر تک کم ہوگئیں جبکہ پاکستان سے سویڈن کو کی جانے والی برآمدات کا حجم بھی 138 ملین ڈالر سے 131 ملین ڈالر تک کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سویڈن کو کپڑے وچمڑے کی مصنوعات ، چاول، کھیلوں کا سامان اور کپاس برآمد کرتا ہے جبکہ درآمدات میں لوہے کا سکریپ، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز، کیمیکلز اور موبائل فونز وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں وسعت کے خاطر خواہ امکانات موجود ہیں اور دونوں ممالک کو چاہئے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، متبالد توانائی، زرعی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سمیت دیگر شعبہ جات میں باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کریں جس سے سویڈن سے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہوگی اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد حاصل ہوگئی۔۔

مزید خبریں