افریقا میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، منیر اکرم

اقوام متحدہ۔21جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افریقا میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کا مقصد انتہائی غربت کا خاتمہ، عدم مساوات میں کمی کرنا اور کرہ ارض کا تحفظ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز افریقا سے متعلق اعلی سطح کے اجلاس میں اظہار …

اقوام متحدہ۔21جولائی (اے پی پی):پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ افریقا میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے 2030 کے ایجنڈے کو فروغ دینے کی ضرورت ہے جس کا مقصد انتہائی غربت کا خاتمہ، عدم مساوات میں کمی کرنا اور کرہ ارض کا تحفظ کرنا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز افریقا سے متعلق اعلی سطح کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث صرف افریقا میں 43لاکھ افراد انتہائی غربت میں چلے گئے اور اس وبا نے دنیا بھر کی معیشتوں کو تباہ کیا اور ملازمتوں کو خطرے میں ڈالا اور اب عالمی خوراک، ایندھن اور مالیات کی ہنگامی صورتحال کے باعث جامع اور پائیدار بحالی کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی ان چیلنجزمیں مزید اضافے کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ افریقا دنیا کا سب سے زیادہ غیر محفوظ خطہ ہے، جہاں کئی ممالک سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی سمیت کئی آفات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلاسگو میں ماحولیاتی تبدیلی کی روک تھام کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس کوپ 27میں ماحولیات کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانا جانا چاہیے اور معاہدوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ترقی یافتہ ممالک سالانہ کلائمیٹ فنانس میں 100 بلین امریکی ڈالر کے وعدے کو پورا کریں جو ان کی موجودہ سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے )سے الگ اور اضافی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم پائیدار ترقی کے متحرک ماڈلز میں تبدیلی کےچیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہو گی۔ پاکستانی سفیر منیر اکرم نے کہا کہ ایک نئے اور زیادہ ہم آہنگ اجتماعی مقداری مالیاتی ہدف کے لیے 100 بلین ڈالر کی فراہمی پر اتفاق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک میں موافقت کی سالانہ لاگت کا تخمینہ 2030 تک 300 بلین ڈالر تک ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقی ممالک میں لچک پیدا کرنے اور موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے2030 تک ان کی جی ڈی پی کا سالانہ 5 فیصد خرچ ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھوس پیش رفت کے لیے افریقی اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرف سے قومی موافقت کے مضبوط منصوبوں اور منصوبوں کی تیاری کی بھی ضرورت ہے۔