وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان سے امریکی وفد کی ملاقات،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں بارے تبادلہ خیال

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینٹر شیری رحمان سے امریکی وفد نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی کانگریس کی رکن شیلا جیکسن لی وفد کی قیادت کر رہی تھیں جبکہ ارکان کانگریس ٹام سوزی اور آل گرین کے علاوہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم بھی وفد شامل تھے۔ امریکی وفد کو …

اسلام آباد۔5ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی سینٹر شیری رحمان سے امریکی وفد نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی کانگریس کی رکن شیلا جیکسن لی وفد کی قیادت کر رہی تھیں جبکہ ارکان کانگریس ٹام سوزی اور آل گرین کے علاوہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ڈونلڈ بلوم بھی وفد شامل تھے۔ امریکی وفد کو امدادی سرگرمیوں سمیت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے درکار امداد سے آگاہ کیا گیا ۔

امریکی وفد نے پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ‘مونسٹر مون سون’ کی تباہ کاریوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کا اعادہ کیا۔وفاقی وزیر نے وفد کو بحالی اور امدادی کوششوں ست متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ زمین پر ہونے والی تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم نے 2010 کے سیلاب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ تاہم، اس بار، ہمیں امداد فراہم کرنے والے اپنے ہیلی کاپٹر کو اتارنے کے لیے خشک زمین نہیں مل سکی۔

رواں سال پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کی زد میں رہا اور سندھ میں درجہ حرارت 53 ڈگری تک پہنچ گیا جس کے بعد ہیٹ ویوز اور گلوف کی معمول سے 3 گنا زیادہ اخراج سے بری طرح متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ جنوب کے علاقے اب بھی زیر آب ہے، جو اب انسانی صحت کے لیے سنگین بحران بنتے جا رہے ہیں۔ حکومت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز اور پاک فوج کی امدادی کوششوں کے باوجود ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 33 ملین افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ہم نے ضرورت کے اس وقت میں اپنے دوست ممالک سے امداد کی درخواست کی ہے۔سیلابوں کے باعث حفظان صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں اور اب یہ ایک قومی ایمرجنسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اب ہم ہیلتھ ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہمیں اس ابھرتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری امداد کی ضرورت ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ پاکستان ہم اس بحران کے لمحے میں امریکی مدد اور حمایت کو سراہتے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیر بھی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔امریکی کانگریس کے وفد نے جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور گہرے افسوس کا اظہار کیا اور اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

مزید خبریں