سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملکی سیاست بڑے اہم موڑ پر آ چکی ہے اور نومبر کا مہینہ بہت اہم ثابت ہو گا، گذشتہ روز مارچ کے کنٹینر سے کہا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن میں واضح اور برملا کہتا ہوں کہ ہمارے پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ …
نومبر کا مہینہ اہم ثابت ہو گا،عمران خان بھارتی ترجمان بن چکا، پی ٹی آئی سےمذاکرات نہیں ہو رہے، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف
سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ملکی سیاست بڑے اہم موڑ پر آ چکی ہے اور نومبر کا مہینہ بہت اہم ثابت ہو گا، گذشتہ روز مارچ کے کنٹینر سے کہا گیا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں لیکن میں واضح اور برملا کہتا ہوں کہ ہمارے پی ٹی آئی کے ساتھ کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی ایسی باتوں میں کوئی صداقت ہے، عمران خان اقتدارکی ہوس میں وہاں پہنچ چکا جہاں وطن کی محبت حیثیت نہیں رکھتی، اس کےلیے اول و آخر اس کی اپنی ذات ہے، اقتدار کی محرومی عمران خان کو وطن دشمنی پر لےآئی ہے، عمران خان کی زبان پاکستان دشمنی کی زبان ہے، اس کے کارکنوں کی تربیت کی بنیاد نفرت اور تقسیم پر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو سیالکوٹ میں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف عمران خان جو فرمائشی زبان بول رہا ہے ، بھارتی میڈیا اسے فل کوریج دے رہا ہےاور عمران خان کو بہت زیادہ سپورٹ کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا ترجمان بن گیا ہے ، عمران خان کے پاک آرمی مخالف نعروں پر بھارتی نیوز چینلز پر بھنگڑے ڈالے جا رہے ہیں لیکن عمران خان اور اسکے حواریوں کو اس بات کا بھی بخوبی علم ہونا چاہیئے کہ ہماری افواج اور ہماری ایجنسیوں کا شمار دنیا کی بہترین افواج اور ایجنسیوں میں ہوتا ہے جو ہر وقت اپنے ملک و قوم کی خاطر قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ہماری مسلح افواج کے 77بہادر جوانوں نے ملک و قوم کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے لیکن عمران خان اور اسکے حواری انہیں شہید جوانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ، کیا یہ انکی حب الو طنی ہے؟ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پاک فوج اور ایجنسیوں پر مسلسل تنقید کرنے پر عمران خان بھارتی میڈیا کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا اصلی چہرہ عوام کے سامنے آ چکا ہے اور لوگ اس سے پیچھے ہٹ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اسکے جمعہ کو شروع ہونے والے لانگ مارچ جس میں لاہور کے اندر 10 سے 12 ہزار لوگ موجود تھے لیکن مرید کے پہنچنے تک اب یہ صرف 3 سے ساڑھے تین ہزار افرادرہ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں عمران خان سیالکوٹ آئے لیکن کتنے لوگ مرے کالج گرائونڈ میں شریک ہوئے وہ سب جانتے ہیں اور مجھ سے بہتر میڈیا جانتا ہے اورہو سکتا ہے اسی وجہ سے انہوں نے لانگ مارچ کو سیالکوٹ لانے کا فیصلہ بھی مسترد کیا ہو ۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی مل بیٹھ کر کرنے کا مشورہ دیا جسے انہوں نے مسترد کر دیا اور ویسے بھی نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا حق ملکی آئین و قانون وزیراعظم کو دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان یہ بتائیں کہ ان کے ذہن میں یہ کیسے آیا اور یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ آرمی چیف کو بغیر آئین و قانون کے صرف سیاسی مشاورت سے تعینات کیا جائے اور ویسے بھی عمران خان ہوتا کون ہے آرمی چیف کی تعیناتی پر بات کرنے والا، مشورہ دینے والا، اس سارے عمل میں عمران خان کی حیثیت تو ایک اجنبی کی ہے کیونکہ اب تو وہ اسمبلی کا رکن ہی نہیں۔ انہوںر نے کہا کہ وہ ادارہ جو گذشتہ 75 سالوں سے ملک و قوم کے لیے لازوال قربانیاں دے رہا ہے عمران خان اسے بھی سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں جو کسی صورت درست نہیں۔
خواجہ محمد آصف نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ادارے آپکا ساتھ دیں تو وہ ٹھیک ہیں لیکن اگر وہ ملکی آئین و قانون میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بات کریں تو آپ انہیں جانور اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہو ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان یو ٹرن ماسٹر ہے وہ کبھی کچھ کہتا ہے اور کبھی کچھ اس نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ نواز شریف اور زرداری کی کرپشن کا مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا مجھے تو یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ نے بتایا حالانکہ پی ٹی آئی کا سارا بیانیہ ہی نواز شریف اور آصف علی زرداری کی کرپشن کا تھا جو کہ وہ ثابت بھی نہ کر سکے لیکن اب پی ٹی آئی اور عمران خان یہ سارا ملبہ بھی اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہے ہیں لیکن اب عوام انکے جھانسے میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ عمران خان کا اصلی چہرہ دیکھ چکے ہیں،عمران خان عوام کے سامنے ایکسپوز ہو چکے ہیں، عمران خان نے پہلے بھی صرف ووٹ لینے کی خاطر جھوٹا بیانیہ اپنایا اور آج بھی من گھڑت بیانیہ اپنا رہا ہے لیکن مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا ۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ادارے آئین و قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ، اس وقت سب سے اہم مسئلہ ملکی معیشت کا ہے ، ملک کو معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہیئےجس کے لیے ہم کوشاں ہیں اور پرعزم بھی ہیں کہ انشااللہ بہت جلد ملک کو اندھیروں سے نکالنے میں کامیاب ہوں گے، پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ ملکی معیشت اس حالت میں ہے حالانکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تو ملک کو درست سمت پر گامزن کر دیا تھا ۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ جہاں سے پی ٹی آئی کا مارچ گذر رہا ہے اسکا زیادہ تر حصہ پنجاب اور خیبر پختونخواکی حکومتوں کی حدود میں ہے اور اس دوران خدانخواستہ اگر کوئی خون خرابہ ہوا تو پنجاب اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومتیں اسکی ذمہ دار ہونگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ چوہدری پرویز الہی جنہوں نے ہمارے ساتھ تو ایک رات بھی نہیں گزاری تھی اب انہوں نے بھی رابطے شروع کر رکھے ہیں انکا بھی کوئی پتہ نہیں کب مکر جائیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان بار بار انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں انہیں چاہیئے کہ پہلے دو صوبوں میں موجود اپنی صوبائی اسمبلیاں توڑیں اور وہاں الیکشن کرائیں ، ملک میں انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہونگے ، اگلے سال 13 اگست کو موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہو رہی ہے ، اسکے 90دن بعد انتخابات کی تاریخ ملے گی۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ارشد شریف مرحوم کی موت پر بھی سیاست چمکائی ، ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے کمیشن بن گیا ہے عمران خان اور سلمان اقبال کو چاہیئے کہ انکے پاس ارشد شریف کے ملک چھوڑنے اور انہیں زندگی کے خطرات کے حوالے جو بھی معلومات ہیں وہ کمیشن کے ساتھ شئیر کریں اور اگر وہ کمیشن کے پاس نہیں آئے تو کمیشن انہیں بلا بھی سکتا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج کا سیاست سے دور رہتے ہوئے اپنی آئینی حدود میں رہنے کا عزم خوش آئند ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔









