غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں سمیت فلسطینیوں کی شہادت جنگی جرم ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل
غزہ پر اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں سمیت فلسطینیوں کی شہادت جنگی جرم ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل

مزید خبریں
لندن ۔14جون (اے پی پی): انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ غزہ پر کئے گئے اسرائیلی حملےجنگی جرم کے زمرے میں آسکتے ہیں ،تنظیم نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف راکٹ فائر کرنے کے الزام کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔
سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق لندن میں قائم انسانی حقوق کے گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی حملے فوجی ضرورت کے بغیرشہری آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کی ایک شکل کے مترادف ہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں 2ہزار943 رہائشی یونٹوں کو نقصان پہنچا ہےجن میں 103 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے بظاہر طاقت کا غیر متناسب استعمال کرتے ہوئے فضائی حملے کیے جن میں بچوں سمیت فلسطینی شہری شہید اور زخمی ہوئے، یہ ایک جنگی جرم ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرقِ وسطی اور شمالی افریقہ کی ریجنل ڈائریکٹر ہیبا مورائف نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بار بار کیے جانے والے جنگی جرائم اور غزہ کی پٹی کی 16 سالہ غیر قانونی ناکہ بندی کی وجہ سے مزید خلاف ورزیوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ناانصافی کو دوام ملتا ہے۔
فلسطینی تنظیم جہاد اسلامی کے ترجمان نے ایمنسٹی کی اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیل کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم پراپنا دفاع کرنے کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل، امریکا اور یورپی یونین نے جہاداسلامی کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔








