اقوام متحدہ کا سمندری طوفان موچا کے بعد انسانی امداد سے متعلق رسائی کو معطل کرنے پر میانمار انتظامیہ کے خلاف شدید ردِ عمل

اقوام متحدہ ۔14جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نےسمندری طوفان موچا کے بعد انسانی امداد سے متعلق رسائی کو معطل کرنے پر میانمار انتظامیہ کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین کوآرڈینیشن آفس( او سی ایچ اے) کی جانب سے شائع ہونےوالی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندری طوفان موچا کے میانمار سے ٹکرانے کے ایک ماہ بعد …

اقوام متحدہ ۔14جون (اے پی پی):اقوام متحدہ نےسمندری طوفان موچا کے بعد انسانی امداد سے متعلق رسائی کو معطل کرنے پر میانمار انتظامیہ کے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ ترک خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین کوآرڈینیشن آفس( او سی ایچ اے) کی جانب سے شائع ہونےوالی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندری طوفان موچا کے میانمار سے ٹکرانے کے ایک ماہ بعد وہاں کی حکومت نے ریاست رخائن میں انسانی امداد کی رسائی کو معطل کر دیا جس سے متاثرہ کمیونٹیز تک امداد کی ترسیل میں خلل پڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر رامناتھن بالاکرشنن نے میانمار انتظامیہ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس تباہی کے4ہفتے بعد مون سون کا موسم شروع ہوچکا ہے اور اس موقع پر انسانی امداد کی رسائی سے انکارکرنا ناقابلِ فہم ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب کمیونٹیز کو ہماری مدد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ، خوراک، پینے کے پانی اور دیگر روزمرہ ضروریات کو روکنا پڑا ہے۔

انہوں نے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ رسائی سے انکار غیر ضروری طور پر ان افراد کے مصائب کومزید بڑھا دے گا جو پہلے ہی سے مصائب کا شکار ہیں۔ انہوں نےمیانمار حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے اور تقسیم کے لیے ابتدائی منظوری کو بحال کرے تاکہ امداد ضرورت مند افراد تک پہنچائی جاسکے۔

مزید خبریں