دنیا بھر میں کم بیجوں والے سٹرس کو پسند کیا جاتا ہے،ڈاکٹر اقرار احمد خان

فیصل آباد۔ 06 ستمبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ دنیا بھر میں کم بیجوں والے سٹرس کو پسند کیا جاتا ہے اسلئے زرعی یونیورسٹی نے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے تعاون سے پاکستان میں کینو کو متعارف کروایا تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سٹرس کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے ہماری سٹرس کی پیداوار بری طرح …

فیصل آباد۔ 06 ستمبر (اے پی پی):جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ دنیا بھر میں کم بیجوں والے سٹرس کو پسند کیا جاتا ہے اسلئے زرعی یونیورسٹی نے کیلیفورنیا یونیورسٹی کے تعاون سے پاکستان میں کینو کو متعارف کروایا تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ سٹرس کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے ہماری سٹرس کی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

ایک تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سٹرس کی بحالی کیلئے تصدیق شدہ بیج کی نرسریوں کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی سی پیک کے تحت چائنہ کے تعاون سے ہارٹیکلچر پارک کے قیام کیلئے اقدامات کر رہی ہے جس سے زرعی ترقی کو نئے ابواب کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے تعاون سے سٹرس سلائیڈز پر پراجیکٹ مکمل کیا ہے جس میں ڈاکٹر مارکوڈل اور چیئرمین شعبہ انٹومالوجی پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف و دیگر نے کاوشیں کیں۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے او کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سٹرس کی پیداوار1970 میں 10.2 ٹن فی ہیکٹر تھی جو کہ اب 2022 میں 11.9 ٹن فی ہیکٹر ہو گئی ہے جبکہ چین میں 1970 میں سٹرس کی پیداوار 2.29 ٹن فی ہیکٹر تھی جو کہ اب 2022 میں 15.8 ٹن فی ہیکٹر، برازیل میں 1970 میں 15 ٹن فی ہیکٹر اور 2022 میں 27.1 ٹن فی ہیکٹرہے۔ انہوں نے ملک میں کم بیجوں والے سٹرس کی اقسام کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس کی بین الاقوامی سطح پر مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انڈسٹری پبلک پارٹنرشپ کے ساتھ جدید نرسری میکنزم تیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ سٹرس باغات کی بحالی وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے زیادہ تر باغات غذائی اجزاکی کمی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغات میں باقاعدگی سے مٹی، پانی اور پتوں کا تجزیہ نہیں کیا جاتا۔ ڈی جی ایکسٹینشن پنجاب اشتیاق حسن، چیف سائنٹسٹ ایوب ریسرچ ڈاکٹر محمد اختر، پرو وائس چانسلروڈین زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں، سابق ڈی جی ایکسٹینشن ڈاکٹر انجم علی، ڈاکٹر محمد نواز میکن، زرعی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر قمر بلال، پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ رضوی، پروفیسر ڈاکٹر اعظم خاں، پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق بٹ، پروفیسر ڈاکٹر خالد مشتاق، پروفیسر ڈاکٹر اعجاز بھٹی؛ پرنسپل آفیسر پی آر پی پروفیسر ڈاکٹر جلال عارف، پروفیسر ڈاکٹر امان اللہ ملک، ڈائریکٹر ریسرچ پروفیسر ڈاکٹر جعفر جسکانی، پروفیسر ڈاکٹر آصف کامران، پروفیسر ڈاکٹر ریاض ورک، ڈاکٹر عامر مقصود گل، ڈاکٹر محمد دلدار خاں گوگی، ڈاکٹر محمد طیب، ڈائریکٹر ایکسٹینشن فیصل آباد چوہدری عبدالحمید، ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن قوی ارشاد اور دیگر نے شرکت کی۔