اسلام آباد ۔ 19 جنوری (اے پی پی) وزیرمملکت اطلاعات، نشریات وقومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہقوم کوگمراہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ناکامی کے سواءکچھ نہیں ملے گا، وزیراعظم محمد نواز شریف نے قوم سے جتنے خطاب کئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں ، پانامہ کیس میں وہ دستاویزات عدالت میں جمع کرارہے ہیں جن کا ذکر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کیا تھا اس …
وزیرمملکت اطلاعات، نشریات وقومی ورثہ مریم اورنگزیب کی میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 جنوری (اے پی پی) وزیرمملکت اطلاعات، نشریات وقومی ورثہ مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہقوم کوگمراہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ناکامی کے سواءکچھ نہیں ملے گا، وزیراعظم محمد نواز شریف نے قوم سے جتنے خطاب کئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں ، پانامہ کیس میں وہ دستاویزات عدالت میں جمع کرارہے ہیں جن کا ذکر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کیا تھا اس کے برعکس عمران خان اپنی دائر کردہ پٹیشن پرایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکے ، عمران خان کو وزیراعظم محمد نوازشریف کا کامیاب دورہ ڈیووس مبارک ہو، ملکی ترقی اورخوشحالی کیلئے فیتے کٹتے رہیں گے۔ جمعرات کویہاں میڈیا سے گفتگو میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان عدالت کے باہر جھوٹ بولتے ہیں ، عمران خان کے پاس کہنے کیلئے آج کچھ نہیں تھا ،تحریک انصاف کے وکلاءنے آج ٹیکس چوری اورمنی لانڈرنگ پر کوئی بات نہیں کی،اب عمران خان کے ہاتھ صرف وہ جھوٹ ہے جس کا وہ باربار کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم نے پارلیمان میں جھوٹ بولا ہے۔انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ(ن) کے وکیل عدالت میں تمام ثبوت پیش کرچکے ہیں،یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ محمد نواز شریف کا پانامہ دستاویزات سے کوئی تعلق نہیں ،یہ بھی ثابت ہورہاہے کہ مریم نواز وزیراعظم کے زیرکفالت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران کی جانب سے دائر پیٹیشن اور اس میں لگائے جانیوالے الزامات کے حوالے سے عمران خان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اور اب وہ اس بات پر آگئے ہیں کہ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں غلط بیانی کی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے قوم سے جتنے خطاب کئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، ہم عدالت میں وہ دستاویزات جمع کرادی ہیں جن کا ذکر وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کیا تھا، اس کے برعکس عمران خان اپنی دائر کردہ پٹیشن پرایک بھی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکے ہیں،اگر سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ لڑا جارہاہے تووہ ہم لڑرہے ہیں۔ وزیرمملکت نے کہا کہ عدالت میں اتنے دنوں سے بحث کا نتیجہ یہ تھا کہ کس بنیاد پر جھوٹے الزامات کے ذریعے تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو نااہل کیا جاسکتا ہے ۔








