سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت کو تشدد قرار دینے کے بیان کی مذمت کرتے ہیں،حماس

غزہ ۔18ستمبر (اے پی پی):اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت کو تشدد قرار دینے سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ موقف انسانی حقوق کے روایتی اصولوں پر لاگو ہونا مناسب نہیں ہے،فلسطینی عوام اس وقت جبر اور جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔ فلسطینی خبررساں ادارے …

غزہ ۔18ستمبر (اے پی پی):اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی طرف سے اسرائیل کے خلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت کو تشدد قرار دینے سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ موقف انسانی حقوق کے روایتی اصولوں پر لاگو ہونا مناسب نہیں ہے،فلسطینی عوام اس وقت جبر اور جارحیت کا سامنا کررہے ہیں۔

فلسطینی خبررساں ادارے کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینی عوام کی مزاحمت بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے مطابق ایک جائز عمل ہے اور یہ ایک ایسا حق ہے جسے فلسطینی عوام ترک نہیں کریں گے۔

فلسطینی قوم اسرائیلی قابض ریاست کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تشدد اور دہشت گردی جیسی اصطلاحات کا اطلاق اسرئیلی غاصب اور اس کے فاشسٹ آباد کاروں پر ہوتا ہےجو حالات کی خرابی،فلسطینیوں کی زندگیوں کو عذاب بنانے اور انہیں ان کے قومی حقوق سے محروم کرنے کے مکمل طور پر ذمہ دار ہیں۔

حماس نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور قابض ریاست کی مسلسل جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی قوم کےنصب العین کی حمایت کریں۔