ملتان۔ 08 جنوری (اے پی پی):کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ کپا س کی چھڑ یوں کے بہتر استعمال کے لئے سی سی آر آئی ملتان کے زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت توسیع کی جاری کردہ سفارشات پر عمل کریں، یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر محمد نوید افضل نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کپاس کے کاشتکار چھڑیوں کو …
کپاس کی چھڑیوں کے بہتر استعمال کیلئے کاشتکار زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں،ڈاکٹر محمد نوید افضل

مزید خبریں
ملتان۔ 08 جنوری (اے پی پی):کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ کپا س کی چھڑ یوں کے بہتر استعمال کے لئے سی سی آر آئی ملتان کے زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت توسیع کی جاری کردہ سفارشات پر عمل کریں، یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر محمد نوید افضل نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کپاس کے کاشتکار چھڑیوں کو کٹائی کے بعدانہیں ایک بڑے ڈھیر کی صورت میں نہ رکھیں بلکہ چھڑ یوں کے چھوٹے چھوٹے گٹھے بنا کر انہیں عمو دی سمت سورج کے رخ رکھیں تاکہ ان پر دھوپ براہ راست پڑ سکے۔
ہفتہ میں ایک آدھ بار چھڑ یوں کو الٹ پلٹ کریں اور ان کے نیچے موجود کچرے کو ٹھکانے لگائیں۔ان کچروں میں گلابی سنڈی کے لاروے چھپے ہوتے ہیں اس لئے کچرے کو یا تو زمین کھود کر دبا دیں یا پھر انہیں آگ لگائی جائے۔ جہاں پر کپاس کی چھڑیوں کے ڈھیر ہوں،ان کے آس پاس ایک عدد جنسی پھندہ لگائیں تاکہ گلابی سنڈی کے پروانوں کا تدارک ممکن ہو سکے۔ڈاکٹر محمد نوید افضل نے کہا کہ چھڑیوں کے ساتھ کپاس کے بغیر کھلے ٹینڈے ہوتے ہیں۔ ان بغیر کھلے ٹینڈوں میں گلابی سنڈی کے لاروے پیوپوں کی شکل میں سردیوں کا سیزن سرمائی نیند میں گزارتے ہیں۔
گرمیاں شروع ہوتے ہی کپاس کی ان چھڑیوں سے گلابی سنڈی کے پروانے نکلنا شروع ہو جاتے ہیں اور کپاس کی فصل پر اپنی نسل بڑھانا شر وع کر دیتے ہیں۔ اگر کپاس کی فصل نہ ملے تو یہ پروانے مَر جاتے ہیں اورگلابی سنڈی کے حملے میں کافی حد تک کمی واقع ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر نوید افضل کا کہنا تھا کاشتکار جب کپاس کی چھڑیوں کے چھوٹے چھوٹے گٹھے بنا ئیں تو انہیں اس طرح رکھیں کہ چھڑیوں کے منڈھ نچلی طرف ہوں تا کہ دھوپ کی وجہ سے ان کے اندر موجود سنڈیاں، پروانے بن کر جلدی سے باہر نکل آئیں اورکپاس کے پودے نہ ہونے کی وجہ سے تلف ہو جائیں جبکہ بطور سبز کھاد استعمال کرنے کے لئے کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ چھڑیوں کو سلیشر/روٹا ویٹر /ڈسک ہیرو کی مدد سے کھیتوں میں دبا دیں تاکہ کھیت کی زرخیزی میں اضافہ ہو سکے اور گلابی سنڈی بھی ختم کی جاسکے اورچھڑیوں کو کھیت میں دباتے وقت آدھی بوری یوریاڈال کر پانی لگا دیں تاکہ گلنے سڑنے کے عمل کو تیز کیا جاسکے۔








