جاپانی ہائی کورٹ نے پرانا میہاما نیوکلیئر ری ایکٹر بند کرنے کی درخواست مسترد کر دی

ٹوکیو۔17مارچ (اے پی پی):جاپان کی ہائی کورٹ نے بحیرہ جاپان کے ساحل پر واقع ایک پرانے جوہری ری ایکٹر کو بند کروانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ این ایچ کے ،کے مطابق اوساکا ہائی کورٹ کے پریزائیڈنگ جج ہاسےگاوا کوجی نے فوکوئی میں واقع می ہاما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 48 سال پرانے نمبر 3 ری ایکٹر سے متعلق اپنا فیصلہ سنایا۔قبل ازاں اوساکا ضلعی عدالت نی ایسی ہی …

ٹوکیو۔17مارچ (اے پی پی):جاپان کی ہائی کورٹ نے بحیرہ جاپان کے ساحل پر واقع ایک پرانے جوہری ری ایکٹر کو بند کروانے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

این ایچ کے ،کے مطابق اوساکا ہائی کورٹ کے پریزائیڈنگ جج ہاسےگاوا کوجی نے فوکوئی میں واقع می ہاما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے 48 سال پرانے نمبر 3 ری ایکٹر سے متعلق اپنا فیصلہ سنایا۔قبل ازاں اوساکا ضلعی عدالت نی ایسی ہی استدعا دسمبر 2022 میں مسترد کر دی تھی۔ فوکوئی اور قریبی پریفیکچرز میں رہنے والے سات افراد نے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

مدعیان نے اس ری ایکٹر کے انتہائی پرانا ہو جانے اور بڑے زلزلوں کے خلاف ناکافی مزاحمت کی وجہ سے سنگین حادثات کے خطرات کا حوالہ دیا۔2011 میں فوکوشیما دائی اِیچی نیوکلیئر پلانٹ کے حادثے کے بعد سے ری ایکٹرز کی قابل استعمال مدت اصولی طور پر 40 سال تک محدود ہے۔ تاہم مدت کو اُس صورت میں ساٹھ سال تک بڑھایا جا سکتا ہے جب ری ایکٹر نیوکلیئر ریگولیشن اتھارٹی کی جانچ پڑتال پر پورا اترے۔می ہاما ری ایکٹر کو مذکورہ جانچ پڑتال پر پورا اترنے کے بعد 2021 میں دوبارہ فعال کر دیا گیا تھا۔

مزید خبریں