ملتان۔ 27 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیرزراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین شاہ نے کہا ہے کہ ملک اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے،حکومت پنجاب کی اولین ترجیح زراعت کی بحالی اور کسان کی خوشحالی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وژن اس حوالے سے بے حد واضح ہے کہ کسان اور زراعت کو مضبوط کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ان خیالات کا اظہار …
حکومت پنجاب کی اولین ترجیح زراعت کی بحالی اور کسان کی خوشحالی ہے،سید محمد عاشق حسین

مزید خبریں
ملتان۔ 27 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیرزراعت پنجاب سید محمد عاشق حسین شاہ نے کہا ہے کہ ملک اس وقت مشکل صورتحال سے گزر رہا ہے،حکومت پنجاب کی اولین ترجیح زراعت کی بحالی اور کسان کی خوشحالی ہے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وژن اس حوالے سے بے حد واضح ہے کہ کسان اور زراعت کو مضبوط کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں کپاس کی فصل کے لئے جائزہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزیر زراعت کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی رانا سلیم، لعل جوئیہ ،اسامہ فیصل، سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار سہو،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب عطیل سمیت کسان نمائندوں اور ملتان،بہاولپور،ڈیرہ غازیخان کے زراعت افسران نے شرکت کی۔صوبائی وزیرزراعت پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پہلی مرتبہ زراعت اور لائیو سٹاک کو اتنا کثیر بجٹ دیا ہے جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ زراعت کے فروغ کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کی سنجیدگی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ سات ہزار سولر ٹیوب ویلز کی سکیم وزیراعلیٰ کو پیش کی گئی جسے انہوں نے بڑھا کر ساڑھے17ہزار سولر ٹیوب ویلز سالانہ کردیا،اسی طرح گرین ٹریکٹر کی سکیم ہم نےچھ ارب روپے کی بنا کر بھیجی،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اسے بڑھا کر 30ارب روپے کردیا،جس کے تحت کاشتکار وں کو 20ہزار گرین ٹریکٹر ایک سال میں دئیے جائیں گے۔سید محمد عاشق حسین نے کہا کہ زرعی تحقیق کے لئے بہترین آپشنز بروئے کار لائے جارہے ہیں،زرعی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے زرعی گریجویٹس کو باقاعدہ تنخواہ کے ساتھ ہر سال ایک ہزار انٹرن شپ محکمہ زراعت میں دی جائیں گی تاکہ عملی تربیت حاصل کر کے وہ زراعت کے فروغ میں معاون ثابت ہوسکیں۔صوبائی وزیر عاشق حسین شاہ نے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ کسان سہولت سنٹرز کا دائرہ کار وسیع کیا جائے،عوامی نمائندوں کی مشاورت سے مزید سہولت سنٹرز قائم کئے جائیں،تاکہ کسانوں کو سہولیات اور مشاورت ان کی دہلیز پر میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ کپاس پاکستان کی ایک اہم نقد آور فصل ہے،جنوبی پنجاب میں کپاس سب سے زیادہ پیدا ہوتی ہے،کپاس کی پیداوار میں بڑھوتری اور کپاس کے کاشتکار کی بہتری کے لئے بھرپور اقدامات اٹھائے جارہے ہیں،اس سلسلہ میں کپاس کی پیداوار اور اس کی صنعت سے وابستہ تمام حلقوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔
اس دوران سیکرٹری زراعت پنجاب افتخارسہو نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت کے افسران اپنے دائرہ کار میں واقع کسان سہولت سنٹرز پر تمام سہولیات یقینی بنائیں،اس ضمن میں مقامی انتظامیہ ، ارکان اسمبلی اور عوامی نمائندوں کو مدعو کریں،کسان سہولت سنٹرز کی بھرپور تشہیر بھی کی جائے تاکہ کسان کو ان تمام سہولیات کے بارے میں باخبر کیا جاسکے جو ان سنٹرز پر فراہم کی جارہی ہیں۔بعدازاں صوبائی وزیرزراعت سید عاشق حسین شاہ نے محمد نواز شریف یونیورسٹی آف ایگریکلچر میں جاری مینگو فیسٹویل کا دورہ بھی کیا۔صوبائی وزیر زراعت مختلف سٹالز پر گئے اور آموں کی ورائٹیوں بارے دریافت کیا۔








