زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر کام کرے، افتخار علی سہو

لاہور۔23اگست (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کا کردار بہت اہم ہے، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر کام کرے، پرائیویٹ سیکٹر عناصرِ صغیرہ کے حوالے سے اپنے دس بڑے مسائل کمیٹی میں پیش کرے۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے عناصرِ صغیرہ کی ریگولیشن سے متعلق ایگریکلچر ہائوس …

لاہور۔23اگست (اے پی پی):سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کا کردار بہت اہم ہے، زرعی شعبہ کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر محکمہ زراعت کے ساتھ مل کر کام کرے، پرائیویٹ سیکٹر عناصرِ صغیرہ کے حوالے سے اپنے دس بڑے مسائل کمیٹی میں پیش کرے۔

ان خیا لات کا اظہار انہوں نے عناصرِ صغیرہ کی ریگولیشن سے متعلق ایگریکلچر ہائوس لاہور میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے عناصرِ صغیرہ کی رجسٹریشن اور استعمال بارے سفارشات تیارکرنے کیلئے چھ ارکان پر مشتمل کمیٹی کو تشکیل کرنے کی ہدایات دیں جن میں پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے۔

اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ عناصرِ صغیرہ کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کا عمل نہایت شفاف بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عناصرِ صغیرہ کی انسپکشن، رجسٹریشن اور ریگولیشن کیلئے وضع کردہ طریقہ کار کو فالو کیا جائے۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے واضح کیا کہ عناصرِ صغیرہ کی کوالٹی اورسٹینڈرڈپر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، صاف ستھر ا کاروبار کرنے والوں کو مکمل سپورٹ کیا جائے گا،

ملاوٹ اور غیر معیاری پراڈکٹس کے کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا، عناصرِ صغیرہ کی رجسٹریشن کے عمل کو آن لائن کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فرٹیلائزر ایکٹ کا مسودہ کابینہ اور اسمبلی کی منظوری کے لئے پیش کر دیا گیا ہے۔اجلاس میں محکمہ زراعت کے افسران اور پرائیویٹ کمپنیوں کے مالکان نے شرکت کی۔