سعودی عرب فلسطین اسرائیل تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے کوشاں

ریاض۔28ستمبر (اے پی پی):شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایجنڈ اس یقین پر مبنی ہے کہ مستقل حل فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو …

ریاض۔28ستمبر (اے پی پی):شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اتحاد تشکیل دے دیا ہے۔عرب نیوز کے مطابق سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایجنڈ اس یقین پر مبنی ہے کہ مستقل حل فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا مقصد دو ریاستی حل کا نفاذ اور اس کے لیے بعض دیگر عناصر کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مملکت اور اتحادی اس منصوبے کے ایک حصے کے طور پر ریاض، برسلز، قاہرہ، اوسلو، عمان اور انقرہ میں اعلٰی سطح پر اجلاس منعقد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تنازع اب لبنان تک وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ لبنان کے جنوبی حصے پر حملہ کر رہی ہے ۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ جنگ بندی کی تجویز میں لبنان اور اسرائیل دونوں کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا۔خطے میں تنازع کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم نومبر میں یرغمالیوں کے تبادلے کے لیے جنگ میں ایک مختصر وقفے کے علاوہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ ’ہم نے جنگ کے آغاز سے ہی ایک پیٹرن دیکھا ہے، ہر بار جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم غزہ میں جنگ بندی کے قریب ہیں، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔انہوں نے کہ اتحاد اس مسئلے کے حل کے لیے کام کی کوشش کر رہا ہے اور مملکت کی توجہ فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔

 

مزید خبریں