اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سٹینڈرڈ چارٹرڈبنک کے زیر اہتمام کراچی میں ”مارکیٹ کے رجحانات اور سرمایہ کاری کے مواقع “ کے عنوان سے ایک مارکیٹ آؤٹ ُلک ایونٹ کاانعقادہوا ۔یہ بینک کی جانب سے سال بھر میں اپنے کلائنٹس کے لئے منعقد ہونے والے مارکیٹ آؤٹ لک ایونٹس کے سلسلے کا تیسرا سیشن تھا۔ اس ایونٹ میں بینک کے معزز کلائنٹس، معروف ماہرین اقتصادیات اور پروڈکٹ پارٹنرز کے ماہرین نے …
سٹینڈرڈ چارٹرڈ بنک کے زیر اہتمام مارکیٹ آؤٹ ُلک ایونٹ کاانعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سٹینڈرڈ چارٹرڈبنک کے زیر اہتمام کراچی میں ”مارکیٹ کے رجحانات اور سرمایہ کاری کے مواقع “ کے عنوان سے ایک مارکیٹ آؤٹ ُلک ایونٹ کاانعقادہوا ۔یہ بینک کی جانب سے سال بھر میں اپنے کلائنٹس کے لئے منعقد ہونے والے مارکیٹ آؤٹ لک ایونٹس کے سلسلے کا تیسرا سیشن تھا۔ اس ایونٹ میں بینک کے معزز کلائنٹس، معروف ماہرین اقتصادیات اور پروڈکٹ پارٹنرز کے ماہرین نے شرکت کی تاکہ عالمی اور مقامی معاشی منظرنامے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے اور مالیاتی مارکیٹوں کے مستقبل پرمعلومات فراہم کی جا سکے۔
پیر کو جاری بیان کے مطابق سٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کی ہیڈآف ویلتھ اینڈ ریٹیل بینکنگ سعدیہ ریاض نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے معزز کلائنٹس کو موجودہ معاشی منظرنامے کے حوالے سے قابل عمل مشاہدات فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہیں تاکہ وہ موجودہ مارکیٹوں میں میکرو ڈویلپمنٹس کی روشنی میں مواقع تلاش کر سکیں اور ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ عالمی مالیاتی پالیسیوں اور مقامی اقتصادی ترقی جیسے اہم رجحانات پر ماہرین کی آراء پیش کر کے ہم اپنے کلائنٹس کو ان کے مالیاتی پورٹ فولیو کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کے لئے ضروری علم سے لیس کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔“کمیٹی میںAMEE کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر من پریت گل، کنٹری اکانومسٹ فاروق پاشا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویلتھ سلوشنز، ڈپازٹس اینڈ سیکیورڈ،کیلاش کمار، یو بی ایل فنڈ منیجرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، آصف علی قریشی اور ایم سی بی فنڈز کے چیف انویسٹمنٹ آفیسر محمد عاصم شامل تھے۔
مباحثے کی میزبانی سٹینڈرڈ چارٹرڈ پاکستان کے ہیڈ آف انویسٹمنٹ ایڈوائزری مرتضیٰ حسن سی ایف اے نے کی، جس میں عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں ملکی معیشت کی صورتحال، دولت کی منصوبہ بندی میں مؤثر اور متنوع حل اور کلائنٹ پورٹ فولیوز میں تحفظ کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی۔ورچوئل گفتگو میں شامل ہونے والے من پریت گل نے عالمی مالیاتی پالیسی کے ممکنہ اثرات اور سرمایہ کاروں کے لیے ترقی کے ممکنہ مواقع پر روشنی ڈالی۔ فاروق پاشا نے کہا کہ مالی سال کے آغازسے پاکستان کے معاشی منظر نامے میں بہتری آئی ہے۔
انتخابات کے بعد معاشی رفتار میں تیزی آئی ہے اور سال کی پہلی ششماہی میں 3 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف ایس بی اے پروگرام کی تکمیل ہوئی ہے۔ مالی سال 2023ءکے بحران کے مقابلے میں مالی سال2024ء میں معیشت کی شرح نمو، افراط زر اور خسارے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ہم مالی سال2025ءمیں مزید استحکام کی توقع کرتے ہیں جس میں ترقی 3.0 فیصد (مالی سال 2420ءمیں 2.4 فیصد سے)اور افراط زر کم ہوکر 12.5 فیصد (مالی سال 24 میں 23.4 فیصد سے) تک کم ہونے کا امکان ہے سٹینڈرڈ چارٹرڈ اپنےکلائنٹس کے لیے اس طرح کے مزید ایونٹس منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔








