ریاض۔12نومبر (اے پی پی):عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جلد ہی اکثریتی ووٹ کے ذریعے اسرائیل کی یو این میں رکنیت منجمد کر سکتی ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اسلامک غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے …
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اسرائیلی رکنیت منجمد ہونے کا امکان ہے ، عرب لیگ

مزید خبریں
ریاض۔12نومبر (اے پی پی):عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے امید ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جلد ہی اکثریتی ووٹ کے ذریعے اسرائیل کی یو این میں رکنیت منجمد کر سکتی ہے۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب اسلامک غیر معمولی سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ بہت ساری ریاستیں اسرائیل کی رکنیت کو منجمد کرنے کی حمایت کریں گی اور یہ منجمد کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے وژن کے تحت نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل واحد فریق ہے جو اراکین کو نکالنے اور اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے لیکن ہم نکالنے یا شامل ہونے کی بات نہیں کر رہے، ہم (رکنیت) منجمد کرنے کی بات کر رہے ہیں،ہم جلد ہی جنرل اسمبلی کے اکثریتی ووٹ کے ذریعے رکنیت کے منجمد ہونے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، یہ ایسا قدم ہے جو چیزوں کو صحیح جگہ پر رکھتا ہے۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بھی موجود تھے۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ دو ریاستی حل ایک سست موت مر رہا تھا لیکن غزہ کے تنازعے اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں کی وجہ سے اب اس پر عالمی برادری کا اتفاق رائے بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے اراکین کی کی اکثریت حتیٰ کہ دنیا کے بڑے ملک بھی دو ریاستی حل کے پیچھے مضبوطی سے کھڑے ہیں، میرے خیال میں اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک نے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کیا اور دیگر اب سنجیدگی سے اسےتسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں جن میں کچھ بہت اہم ممالک بھی ہیں۔








