صدر جو بائیڈن میرے والد کی صدارت کی مدت شروع ہونے سے پہلے تیسری عالمگیر جنگ شروع کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر

واشنگٹن+کراکس۔18نومبر (اے پی پی):امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے بیتے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس دو ماہ بعد ان کے والد کی صدارت کی مدت شروع ہونے سے پہلے تیسری عالمگیر جنگ شروع کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں اور وینزویلا کے صدرنکولس مادورو نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کو پاگل …

واشنگٹن+کراکس۔18نومبر (اے پی پی):امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے بڑے بیتے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس دو ماہ بعد ان کے والد کی صدارت کی مدت شروع ہونے سے پہلے تیسری عالمگیر جنگ شروع کرنے کی کوشش کر ر ہے ہیں اور وینزویلا کے صدرنکولس مادورو نے امریکی انتظامیہ کے اس اقدام کو پاگل پن قرار دیا ہے۔

نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے خلاف معمول یوکرین کی فوج کو روس کے اندر گہرائی تک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکا کی طرف سے فراہم کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نےاس حوالے سے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس جنگ کو مزید افراتفری میں دھکیل کر اقتدار سنبھالنے سے پہلے ان کے والد کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ میرے والد کو امن قائم کرنے اور زندگیاں بچانے کا موقع ملے، وہ تیسری عالمی جنگ شروع کر دیں کیونکہ اس طرح وہ کھربوں ڈالر کما سکیں گے چاہے اس کے لئے لاتعداد انسانوں کی زندگیا ں چلی جائیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کا فیصلہ یوکرین کی فوج کو کرسک کے علاقے میں امریکی ساختہ آرمی ٹیکٹیکل میزائل سسٹم استعمال کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے ۔

ان امریکی ساختہ میزائلوں کی رینج تقریباً 190 میل ہے اور یہ بڑے پیمانے پر دھماکے کر سکتے ہیں۔یوکرین نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ چند ماہ کے اندر امریکی ساختہ نئے ہتھیاروں کا استعمال کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران یوکرین جنگ کے خاتمے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔دریں اثنا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ممالک فرانس اور برطانیہ کی جانب سے روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دینے کا فیصلہ پاگل پن ہے۔ یہ بات وینزولا کے صدر نے مقامی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہی۔

تاس کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ امریکا، فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں نے روس پر حملے کے لیے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سامراج پاگل پن اور انتقام کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے 17 نومبر کو رپورٹ کیا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے اندر حملہ کرنے کے لیے یوکرین کو امریکا کی طرف سے فراہم کئے گئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔

بعد ازاں فرانس کے اخبار لی فگارو نے اطلاع دی کہ فرانس اور برطانیہ نے بائیڈن کی پیروی کی اور روس کے اندر حملہ کرنے کے لئے اپنے فراہم کر دہ ہتھیاروں کے استعمال کی بھی اجازت دےدی۔روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 12 ستمبر کو کہا تھا کہ روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے مغربی میزائل کے استعمال کے ممکنہ فیصلے کا مطلب یوکرین کے تنازعے میں امریکا اور نیٹو کے دیگر ممالک کی براہ راست مداخلت ہے۔

صدر نے متنبہ کیا کہ یہ اقدام تنازع کی نوعیت کو بدل دے گا اور روس کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ فیصلے کرنے ہوں گے۔بعد ازاں روسی حکومت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ امریکی فیصلہ تیسری عالمی جنگ کے آغاز کا باعث بن سکتا ہے۔