مصنوعی ذہانت کا شعبہ بيک وقت بے انتہا اميدوں اور خوف، دونوں کا سبب ہے، فرانسیسی عہدیدار کا اے آئی سمٹ سے خطاب

پیرس۔11فروری (اے پی پی):فرانسیسی صدر کی مشير برائے اے آئی اين بوويرو نے کہاہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ بيک وقت بے انتہا اميدوں اور خوف، دونوں کا سبب ہے۔ڈی ڈبلیو کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پيرس ميں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر عالمی اجلاس کی افتتاحی تقريب سے اپنے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ اجلاس ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہو گا جس کے نتيجے ميں مزيد ممالک …

پیرس۔11فروری (اے پی پی):فرانسیسی صدر کی مشير برائے اے آئی اين بوويرو نے کہاہے کہ مصنوعی ذہانت کا شعبہ بيک وقت بے انتہا اميدوں اور خوف، دونوں کا سبب ہے۔ڈی ڈبلیو کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پيرس ميں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر عالمی اجلاس کی افتتاحی تقريب سے اپنے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ اجلاس ایک ایسا اہم موڑ ثابت ہو گا جس کے نتيجے ميں مزيد ممالک مصنوعی ذہانت سے مستفيد ہو سکيں گے۔ اس سيکٹر کے لئے توانائی کے ديرپا ذرائع بھی زير غور ہيں۔

اجلاس ميں مختلف ممالک کے رہنما اور ٹيکنالوجی کے شعبے کی سرکردہ شخصيات شريک ہيں۔ اجلاس کا مقصد مصنوعی ذہانت کے حوالے سے قانون سازی کے لئے اتفاق رائے تک پہنچنا ہے۔ اس اجلاس ميں ڈيڑھ ہزار سے زیادہ مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔سمٹ کی ميزبانی فرانسيسی صدر ايمانوئل ماکروں اور بھارتی وزير اعظم نريندر مودی کر رہے ہيں۔ مختلف ليکچرز اور مباحث بھی اس اجلاس کا حصہ ہيں، جن ميں اے آئی کے باعث لاحق خطرات اور مواقع کا جائزہ ليا جا رہا ہے۔

ساتھ ہی اس پہلو پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ اس شعبے ميں آگے نکلنے کی دوڑ ميں قواعد و ضوابط کے احترام کو بھی يقینی بنايا جائے۔قبل ازيں فرانسیسی صدر ايمانوئل ماکروں نے بھی اے آئی کی کاميابیوں پر روشنی ڈالی اور ساتھ ہی اس شعبے ميں 109 بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا اعلان بھی کيا۔ امریکا نے ابھی حال ہی ميں اوپن اے آئی کی قيادت ميں اے آئی سيکٹر کی ترقی کے لئے پانچ سو بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کا اعلان کيا ہے۔مصنوعی ذہانت کے شعبے ميں اب تک امريکا اور چين ہی مرکزی کردار کے حامل رہے ہيں۔ چين نے حال ہی ميں ڈيپ سيک ایپ کو لانچ کيا، جو اس شعبے ميں امريکی قيادت کے لئے ايک بڑا چيلنج بن گئی ہے۔

اميد کی جا رہی ہے کہ اس اجلاس ميں يورپ کی جانب سے بھی اقدامات اور سرمايہ کاری کا اعلان کيا جا سکتا ہے۔ يورپی قانون سازوں نے گزشتہ برس ایک اے آئی ايکٹ کی منظوری دی تھی، جو کہ اس سيکٹر کو ريگوليٹ کرنے کے سلسلے ميں اپنی طرز کی اولين قانون سازی ہے۔

اجلاس ميں عالمی رہنما مصنوعی ذہانت کو ديرپا اور ماحول دوست بنانے کے حوالے سے قانون سازی پر کسی اتفاق رائے تک پہنچنے کی کوشش کريں گے۔ تاہم ماہرين اور ناقدين کا يہ بھی کہنا ہے کہ يورپی يونين، امریکا ، چين اور بھارت ان سب ہی کی مصنوعی ذہانت کے ميدان ميں ترجيحات مختلف ہيں اور يوں ريگوليشن کے حوالے سے بھی ان کے نقطہ ہائے نظر خاصے اختلافات بھی موجود ہیں۔

مزید خبریں