اقوام متحدہ ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 19 جنوری کو فائر بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کے داخلے میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے جس میں خیمے بھی شامل ہیں جن پر اس سے پہلے اسرائیلی پابندیاں عائد تھیں،تاہم یہ اب بھی ناکافی ہے۔ العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ترجمان ینس لائرکہ …
فائر بندی کے بعد غزہ کے لیے امداد کی فراہمی میں اضافہ ہوا تاہم یہ اب بھی ناکافی ہے ، اقوا م متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔12فروری (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ 19 جنوری کو فائر بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد غزہ کی پٹی میں امدادی سامان کے داخلے میں بڑی حد تک اضافہ ہوا ہے جس میں خیمے بھی شامل ہیں جن پر اس سے پہلے اسرائیلی پابندیاں عائد تھیں،تاہم یہ اب بھی ناکافی ہے۔
العربیہ کے مطابق اقوام متحدہ کے شعبہ برائے انسانی امور کے ترجمان ینس لائرکہ نے جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ فائر بندی کے عرصے کے دوران میں ہم انسانی خدمات کی کارروائیوں کا دائرہ بڑی حد تک وسیع کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں
اس میں غذا، طبی امداد اور عارضی رہائشی سہولیات وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں نے اربوں ڈالر کی امداد کے حصول کے لیے اپیلیں کی ہیں تا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کو ٹھکانا فراہم کرنے کے لیے یونٹوں کا انتطام کیا جا سکے۔
ادھر،امدادی سامان کے داخلے کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی فوج کے مقررہ یونٹ کے بیان کے مطابق فائر بندی کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ خیمے غزہ کی پٹی میں داخل ہو چکے ہیں۔دوسری جانب انسانی امور سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کی ایک عہدے دار ایڈیم ووسورنو کے مطابق اگرچہ فائر بندی کے بعد امداد کی فراہمی بہتری ہوئی ہے تاہم زمینی ضروریات کے اعتبار سے یہ کافی نہیں۔جنیوا میں مقیم سفارت کاروں کے سامنے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت غزہ مکمل طور پر تباہ حال ہے، وہاں بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں، تاہم اس حوالے سے ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔








