لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):ویتنام کے سفیر فام انہ توان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کے مذاکرات جلد شروع ہوں گے تاکہ باہمی تجارتی و معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوزر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور پاکستان میں ویتنام …
پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کے مذاکرات جلد شروع ہوں گے تاکہ باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکے،سفیر ویتنام فام انہ توان

مزید خبریں
لاہور۔20ستمبر (اے پی پی):ویتنام کے سفیر فام انہ توان نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کے مذاکرات جلد شروع ہوں گے تاکہ باہمی تجارتی و معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کیا جاسکے۔انہوں نے یہ بات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوزر شاد، سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان اور پاکستان میں ویتنام کے اعزازی قونصل رضوان فرید نے بھی خطاب کیا جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان سید سلمان علی، کرامت علی اعوان، محمد عمران سلیمی اور وقاص اسلم بھی موجود تھے۔
سفیر نے کہا کہ جولائی 2025 میں ہنوئی میں ہونے والے جائنٹ ٹریڈ کمیٹی کے اجلاس میں دونوں ممالک نے2025 میں ترجیحی تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان دوطرفہ تجارت میں اضافہ خوش آئند ہے، 2024 میں دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت کا حجم850 ملین ڈالر تک پہنچ گیا تھا جبکہ توقع ہے کہ 2025 میں یہ حجم1 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان53 برس قبل سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ ان تعلقات میں سیاست، تجارت، ثقافت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھتا گیا ۔لاہور چیمبر کے صدر میاں ابوذر شاد نے کہا کہ اگرچہ پاکستان اور ویتنام باقاعدہ تجارتی شراکت دار ہیں لیکن دوطرفہ تجارت کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2023-24میں پاکستان کی برآمدات ویتنام کو357 ملین ڈالر جبکہ ویتنام سے درآمدات285 ملین ڈالر تھیں، تاہم 2024-25میں پاکستان کی برآمدات کم ہو کر227 ملین ڈالر رہ گئیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 374 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنی دوطرفہ تجارت کو کم از کم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے جس کے لیے ضروری ہے کہ برآمد کنندگان کو بہتر مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان مشترکہ منصوبہ سازی اور تجارت کے لیے نئی مصنوعات متعارف کروانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر انجینئر خالد عثمان نے کہا کہ پاکستان اور ویتنام کے درمیان تجارتی تعلقات کو بڑھانے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنا ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ویتنام چونکہ آسیان کا اہم رکن ہے اس لیے پاکستان کے لیے اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے کمرشل سیکشنز کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے مارکیٹ سے متعلقہ معلومات اور سروے رپورٹس باقاعدگی سے اپنے اپنے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ شیئر کریں تاکہ تجارتی سہولت میں اضافہ ہو۔








