اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں کسانوں کو ماحولیاتی تبدیلی ، پانی کی قلت اور عالمی منڈی کے دبائو جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت کا وژن ہے کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور خوراک کے نظام اتنے مضبوط ہوں کہ آنے والی نسلوں کی ضروریات بھی پوری کی جا …
ملک میں خوراک کے مسائل کے حل کیلئے مربوط اقدامات کئے جا رہے ہیں، رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ ملک میں کسانوں کو ماحولیاتی تبدیلی ، پانی کی قلت اور عالمی منڈی کے دبائو جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، حکومت کا وژن ہے کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور خوراک کے نظام اتنے مضبوط ہوں کہ آنے والی نسلوں کی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں۔ عالمی یوم خوراک 2025 کے موقع پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اس سال کا موضوع "بہتر خوراک اور بہتر مستقبل کے لئے تعاون”ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوراک صرف بنیادی ضرورت نہیں بلکہ زندگی، وقار اور ترقی کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں خوراک کے مسائل کے حل کے لئے مربوط اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کسان محنتی اور زمین زرخیز ہے مگر ملک کو ماحولیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، فصلوں کی بعد از کٹائی نقصان اور عالمی منڈی کے دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ان مسائل سے نمٹنے کے لئے جدید زرعی ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت، بیجوں کی بہتری، پانی کے تحفظ اور تحقیقی اداروں جیسے پی اے آر سی اور این اے آر سی کے ذریعے نئی اقسام کی فصلوں کی تیاری پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا وژن ہے کہ پاکستان میں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے، کسان کو اس کی محنت کا پورا معاوضہ ملے اور خوراک کے نظام اتنے مضبوط ہوں کہ آنے والی نسلوں کی ضروریات بھی پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے تمام شہریوں، پالیسی سازوں، کسانوں اور کاروباری افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر ایسا پاکستان بنائیں جہاں بہتر خوراک، بہتر صحت اور خوشحال مستقبل کی ضمانت بنے۔








