اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر برائے ترقیِ خواتین شاہینہ شیر علی نے منگل کو ویمنز پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی ) کی سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ملک بھر میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لئے باہمی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزارت اور کاکس کے مابین ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کرنے، شراکتی ترقی، قانون …
صوبائی وزیر برائے ترقیِ خواتین شاہینہ شیر علی کی سیکرٹری ویمنز پارلیمنٹری کاکس ڈاکٹر شاہدہ رحمانی سے ملاقات

مزید خبریں
اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی):صوبائی وزیر برائے ترقیِ خواتین شاہینہ شیر علی نے منگل کو ویمنز پارلیمنٹری کاکس (ڈبلیو پی سی ) کی سیکرٹری ڈاکٹر شاہدہ رحمانی سے ایک اہم ملاقات کی جس میں ملک بھر میں خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات کے فروغ کے لئے باہمی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزارت اور کاکس کے مابین ادارہ جاتی ہم آہنگی پیدا کرنے، شراکتی ترقی، قانون سازی میں اصلاحات اور پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کے لئے مشترکہ اقدامات پر بات چیت ہوئی۔شرکاء نے وفاقی و صوبائی سطح پر ہم آہنگی کو مضبوط بنانےاور خواتین کی ترقی کے محکموں اور ڈبلیو پی سی کے درمیان رابطہ کاری کے مؤثر طریقہ کار کے قیام پر زور دیا تاکہ ملک بھر میں پالیسیوں کا یکساں نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
موجودہ قوانین کا جائزہ لینے، خامیوں کی نشاندہی کرنے اور خواتین کے لئے حساس قانون سازی کو فروغ دینے کی تجویز دی گئی جن میں خاص طور پر دفاتر میں ہراسانی، وراثتی حقوق، چائلڈ میرج (کم عمری کی شادی) اور معاشی بااختیاری جیسے مسائل شامل ہیں۔قدرتی آفات، تنازعات یا بے گھر ہونے کی صورت میں متاثرہ خواتین و بچیوں کے لئے تحفظ اور بحالی پروگرامز کے قیام پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ملاقات میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، مالی معاونت تک رسائی اور دیہی علاقوں میں ہنر مندی کے تربیتی پروگرامز پر بھی گفتگو ہوئی۔پالیسی سازی اور صنفی مساوات سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی پیشرفت کی نگرانی کے لئے صنفی بنیاد پر الگ الگ اور مضبوط ڈیٹا کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
خواتین پر تشدد کے تدارک کے موجودہ نظام اور شیلٹرز کا بھی جائزہ لیا گیا اور محفوظ مقامات، بحران مراکز اور قانونی امداد کی سہولیات کے دائرہ کار کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔علاوہ ازیں خواتین کی سیاست اور سرکاری شعبے میں قیادت کے تربیتی پروگرامز کے لئے حمایت پر بھی بات ہوئی تاکہ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ منفی صنفی رویوں کے خلاف آگاہی مہمات، بچیوں کی تعلیم کے فروغ اور قومی ترقی میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے پر مشترکہ وژن کا اظہار کیا گیا۔ صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے خواتین کو بااختیار بنانے اور حکمرانی کے تمام سطحوں پر ان کی آواز کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ڈاکٹر شاہدہ رحمانی نے صوبائی وزیر کے فعال کردار کو سراہا اور پارلیمنٹ میں خواتین کے حقوق پر مبنی پالیسیوں کی حمایت کے لئے تمام جماعتوں پر مشتمل اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باقاعدہ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور آج کی گفتگو کو عملی شکل دینے کے لئے ایک سٹریٹجک ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔







