سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کہا ہے کہ معتدل اور خشک موسم پیاز کی زیادہ پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے، اس لیے کاشتکار ماہ نومبر کے دوران نرسری کی کاشت مکمل کرلیں تاکہ دسمبر اور جنوری میں پنیری کی کھیتوں میں بروقت منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ رقبے پر …
کاشتکار پیاز کی زیادہ پیداوار کے لیے نومبر میں نرسری کی کاشت مکمل کریں، محکمہ زراعت

مزید خبریں
سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ رانا سلیم شاد نے کہا ہے کہ معتدل اور خشک موسم پیاز کی زیادہ پیداوار کے لیے نہایت موزوں ہے، اس لیے کاشتکار ماہ نومبر کے دوران نرسری کی کاشت مکمل کرلیں تاکہ دسمبر اور جنوری میں پنیری کی کھیتوں میں بروقت منتقلی یقینی بنائی جا سکے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ایکڑ رقبے پر پیاز کی کاشت کے لیے نرسری تیار کرنے میں تقریباً 3 کلوگرام بیج اور 4 سے 5 مرلے زمین درکار ہوتی ہے۔
زمین کو اچھی طرح تیار کر کے چھوٹی چھوٹی مستطیل کیاریاں بنائی جائیں۔ ان کیاریوں میں 7 سے 10 سینٹی میٹر یعنی 3 سے 4 انچ کے فاصلے پر گہری لائنیں بنا کر بیج کاشت کیے جائیں۔ بیج کے اوپر پتوں کی گلی سڑی کھاد ڈال کر سرکنڈے یا پرالی سے ڈھانپ دیا جائے اور فوارے کے ذریعے اس طرح آبپاشی کی جائے کہ کیاریوں میں پانی کھڑا نہ ہو تاہم نمی برقرار رہے۔
رانا سلیم شاد نے مزید کہا کہ پیاز سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے کاشتکار نومبر کے دوسرے ہفتے میں 4 کلوگرام بیج سے 10 مرلہ جگہ پر نرسری کاشت کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پیاز کی کاشت سے قبل زمین میں مٹی پلٹنے والا ہل چلایا جائے، اس کے بعد دو مرتبہ کلٹیویٹر چلا کر زمین کو نرم چھوڑ دیا جائے۔ کاشت سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل فی ایکڑ 10 سے 12 ٹن گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈالنے کے ساتھ 20 کلوگرام یوریا ملایا جائے اور زمین کو پانی لگا دیا جائے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو مشورہ دیا کہ پنیری کو کھیت سے وتر حالت میں احتیاط سے اکھاڑا جائے تاکہ جڑیں بالکل نہ ٹوٹیں اور پودے آسانی سے کھیت میں منتقل کیے جا سکیں۔








