کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعدفصل کی باقیات کو زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں، محکمہ زراعت (توسیع)

سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا ہے کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد اس کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں بلکہ انہیں زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں۔دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کے لیے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد …

سیالکوٹ۔30اکتوبر (اے پی پی):ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر نے کہا ہے کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے کاشتکار دھان کی کٹائی کے بعد اس کی باقیات کو ہرگز آگ نہ لگائیں بلکہ انہیں زمین میں ملا کر زرخیزی میں اضافہ کریں۔دھان کے مڈھوں کو تلف کرنے کے لیے کاشتکار دستی کٹائی کی صورت میں روٹا ویٹر اور مشین سے کٹائی کی صورت میں ڈسک ہیرو کی مدد سے فصل کی باقیات کو زمین میں ملا دیں یا گہرا ہل چلا کر آدھی بوری یوریا فی ایکڑ چھٹہ کرکے پانی لگا دیں۔

اس عمل سے زمین کی زرخیزی اور پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار دھان کے مڈھوں کی تلفی کے سلسلے میں محکمہ زراعت کی ہدایات پر عمل کریں کیونکہ سموگ انسانی صحت پر براہِ راست منفی اثرات ڈالتی ہے۔ دھان کی باقیات کو آگ لگانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔

سموگ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک قسم ہے جو اس وقت بنتی ہے جب ہوا میں موجود کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ، میتھین، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ہائیڈرو کاربن جیسے ذرات ٹھہری ہوئی ہوا میں جمع ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سموگ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پودوں اور پورے ماحول کو نقصان پہنچاتی ہے۔

اس کی زیادتی کی صورت میں پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے اور فصلات، باغات و سبزیات کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ سموگ کی وجوہات میں ٹریفک، فیکٹریوں کا دھواں اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانا شامل ہیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ دھان کے کاشتکار کٹائی کے بعد مڈھوں کو آگ لگانے سے اجتناب کریں کیونکہ اس عمل سے زمین کی بالائی سطح پر موجود نامیاتی مادہ جل جاتا ہے جس سے زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکار سموگ کے تدارک اور زمین کی بہتری کے لیے محکمہ زراعت کی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔