اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):ایمرجنسی میڈیسن سے منسلک ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کے نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، ایمرجنسی میڈیسن پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اور پاکستان سوسائٹی آف ایمرجنسی میڈیسن کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس 2025 کے …
پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کے نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، ایمرجنسی میڈیسن سے منسلک ماہرین کا ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس 2025 میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):ایمرجنسی میڈیسن سے منسلک ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کے نظام میں اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں، ایمرجنسی میڈیسن پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال اور پاکستان سوسائٹی آف ایمرجنسی میڈیسن کے اشتراک سے منعقدہ نیشنل ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس 2025 کے دوران کیا ،جو پاکستان میں ایمرجنسی اور ٹراما کیئر کے نظام کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔دو روزہ کانفرنس ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس میں پاکستان، برطانیہ، آئرلینڈ، متحدہ عرب امارات اور امریکا سے نامور ایمرجنسی میڈیسن سے منسلک ماہرین نے شرکت کی۔ یہ اقدام ایک مشترکہ اکیڈمک لرننگ حب کے قیام کے ذریعے مختلف تعلیمی و تحقیقی اداروں کے تعاون سے عمل میں لایا گیا۔
اس بین الاقوامی تعاون کا مقصد پورے پاکستان میں طبی تربیت اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔کانفرنس کا مقصد پاکستان میں کلینیکل ٹریننگ اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانا تھا۔شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے ایمرجنسی کنسلٹنٹ اور پاکستان سوسائٹی آف ایمرجنسی میڈیسن کے بانی و سابق صدر ڈاکٹر عبدالسلام خان نے کہا کہ ایمرجنسی میڈیسن پاکستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر اور پاکستان سوسائٹی آف ایمرجنسی میڈیسن کے صدر ڈاکٹر خواجہ جنید مصطفیٰ نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کا قیام اب قومی ترجیح بن چکا ہے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی مکمل حمایت اس عمل کے پیچھے موجود ہے۔
کانفرنس کے پہلے دن کلینیکل کور سکلز اور پیڈیاٹرک ایمرجنسی کیئر پر توجہ دی گئی جہاں ماہرین صحت ڈاکٹر قاسم ساہی، ڈاکٹر تمکین پرویز، ڈاکٹر انور قریشی، ڈاکٹر ندیم اشرف اور ڈاکٹر مہوش احمد (برطانیہ) نے اپنی پریزنٹیشنز پیش کیں۔چیلنج دی ایکسپرٹس سیشن میں ڈاکٹر امجد محمد (برطانیہ)، ڈاکٹر ادریس رزاق (برطانیہ)، ڈاکٹر فراز بھٹی (امریکا) اور ڈاکٹر معید احمد (یو اے ای) شامل تھے۔دوسرے دن کے سیشنز میں ریسیسیٹیشن سائنس، پالیسی اور لیڈرشپ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ڈاکٹر جنید رزاق (امریکا) نے ’’ریسیسیٹیشن سائنس -جدید حکمت عملیاں‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیا۔دیگر ماہرین میں ڈاکٹر عبدالستار، ڈاکٹر بینش حمید، ڈاکٹر فراز بھٹی (امریکا)اور ڈاکٹر نعیم توسی (یو اے ای) شامل تھے۔پالیسی سیشن میں ڈاکٹر فیصل سبحانی، ڈاکٹر سلمان خان، ڈاکٹر معید احمد اور ڈاکٹر آذر شیخ نےکم وسائل والے ایمرجنسی سسٹمز، ڈیزاسٹر کی تیاری اور قومی ٹرائیج سسٹم کے قیام پر گفتگو کی۔
لیڈرشپ اور ورک فورس ڈویلپمنٹ سیشن کی صدارت ڈاکٹر عبدالسلام خان اور ڈاکٹر تاج حسن (برطانیہ) نے کی جس میں فرگل ہکی (آئرلینڈ)، جان ہی ورتھ (برطانیہ)، ڈاکٹر جنید رزاق (امریکا) اور ڈاکٹر تمکین پرویز نے شرکت کی جنہوں نے اکیڈمک اداروں کے ایمرجنسی میڈیسن پالیسی سازی میں کردار کے بارے میں بات کی۔اختتامی سیشن میں ڈاکٹر عبدالسلام خان نے کہا کہ پاکستان اب ایمرجنسی کیئر کے ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں تربیت، ٹیکنالوجی اور ٹیم ورک کے امتزاج سے کوشش ہو گی کہ کوئی بھی مریض بروقت علاج سے محروم نہ رہے۔








