اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے ،قطر اور ترکیہ کی مدد سے مذاکرات دوبارہ شروع کئے گئے ،افغان طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردی کو روکیں، انہوں نے کہا کہ دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،افغان طالبان یقینی …
جنگ بندی معاہدہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے ،،ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جنگ بندی معاہدہ پاکستان کے موقف کی تائید ہے ،قطر اور ترکیہ کی مدد سے مذاکرات دوبارہ شروع کئے گئے ،افغان طالبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردی کو روکیں، انہوں نے کہا کہ دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ،ترکیہ اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،افغان طالبان یقینی بنائیں کہ سرحد پار سے دہشت گردی نہ ہو ،پوری دنیا کو پتہ ہے کہ پاکستان پر حملے ہورہےتھے امید ہے اب دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں ہوں گی۔
جمعرات کو میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے موقف کی تائید اور بیانیہ کی جیت ہے ،آنے والے دنوں میں امن قائم ہو گا ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کے خلاف سزا کا تعین کیا جائے گا۔عطا تارڑ نے کہا کہ قطر اور ترکیہ کی مدد سے دوبارہ مذاکرات شروع ہوئے، دوست ممالک پاکستان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو یہ بات ماننا پڑی کہ دہشتگرد کارروائیاں بند ہوں گی، جنگ بندی میں افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ افغان طالبان کو یقینی بنانا ہوگا کہ انکی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اب نیا فورم میسر ہوگا جہاں ہم دہشت گردی کے ثبوت پیش کریں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاک افغان سرحدیں کھولنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔








