اقوام متحدہ ۔31اکتوبر (اے پی پی):سوڈان کے شمالی دارفور کے دارالحکومت الْفاشر کے تیز رفتار فورسز (آر ایس ایف ) کے قبضے میں جانے سے خانہ جنگی کے بحران میں مزید شدت آگئی ہے، جس پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتحاد اور عزم کے ساتھ فوری اقدامات کرے تاکہ جنگ بندی ہو، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سوڈان کے …
اقوامِ متحدہ سوڈان کے بحران کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر اقدام کرے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔31اکتوبر (اے پی پی):سوڈان کے شمالی دارفور کے دارالحکومت الْفاشر کے تیز رفتار فورسز (آر ایس ایف ) کے قبضے میں جانے سے خانہ جنگی کے بحران میں مزید شدت آگئی ہے، جس پر پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتحاد اور عزم کے ساتھ فوری اقدامات کرے تاکہ جنگ بندی ہو، شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور سوڈان کے عوام کو اپنے ملک کی تعمیرِ نو کا موقع مل سکے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جمعرات کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سوڈان کے عوام طویل عرصے سے ناقابلِ تصور مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ کونسل ایک واضح پیغام دے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھے گی جبکہ معصوم شہریوں کا قتلِ عام، ہسپتالوں پر بمباری اور امدادی کارکنوں پر حملے ہو رہے ہیں۔
پاکستانی سفیر نے آر ایس ایف کے ظلم و جبر اور الفاشر پر پرتشدد قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی میٹرنٹی ہسپتال میں سینکڑوں مریضوں اور طبی عملے کے قتلِ عام اور شہر کے محاصرے نے ہزاروں شہریوں کو غیر انسانی حالات میں محصور کر دیا ہے، جو "ناقابلِ قبول”ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ انسانیت سوز کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں اور ان کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے زور دیا کہ سوڈان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں، لہٰذا ہتھیار خاموش اور بیرونی مداخلت بند ہونی چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم جنگ بندی کے فوری نفاذ اور سوڈانی عوام کی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل کے آغاز کا مطالبہ کرتے ہیں، جو جَدّہ اعلامیے اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق وعدوں کے مطابق ہو۔پاکستانی مندوب نے سوڈان کی خودمختاری کے احترام اور متوازی حکومتوں کے قیام کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ریاستی اداروں کو کمزور اور ملک کو تقسیم کے خطرے سے دوچار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو سوڈانی حکام کے ساتھ تعمیری روابط قائم کرنے، انسانی امداد کی فراہمی، سیاسی عمل کی پیشرفت اور قومی اتحاد کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔سفیر عاصم افتخار احمد نے سوڈان کی عبوری حکومت کے اقدامات جیسے نئے وزیرِاعظم اور تکنیکی کابینہ کی تقرری کو "مثبت پیش رفت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کو ان کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔








