اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):معرکہ1948 کے غازی علی مدد نے ناردرن اسکاؤٹس میں رہ کر استور، نگراورکارگل کے مقام پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور اپنے ساتھیوں کیساتھ مل کر 50 سے زائد بھارتی فوجیوں کا قلع قمع کیا۔تفصیلات کے مطابق بہادر غازیوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکستِ فاش دے کر گلگت بلتستان کو غاصب بھارت کے قبضے سے آزاد کرایا۔معرکہ1948 کے غازی علی مدد …
جرات، بہادری اور عزم و ہمت کے نشان، غازیان گلگت بلتستان کو سلام،گلگت بلتستان کی آزادی کی کہانی، غازی معرکہِ 1948 علی مددکی زبانی

مزید خبریں
اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):معرکہ1948 کے غازی علی مدد نے ناردرن اسکاؤٹس میں رہ کر استور، نگراورکارگل کے مقام پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیااور اپنے ساتھیوں کیساتھ مل کر 50 سے زائد بھارتی فوجیوں کا قلع قمع کیا۔تفصیلات کے مطابق بہادر غازیوں نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکستِ فاش دے کر گلگت بلتستان کو غاصب بھارت کے قبضے سے آزاد کرایا۔معرکہ1948 کے غازی علی مدد نے ناردرن اسکاؤٹس میں رہ کر استور، نگراورکارگل کے مقام پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
غازی علی مدد نے اپنے ساتھیوں کیساتھ مل کر 50 سے زائد بھارتی فوجیوں کا قلع قمع کیا۔غازی علی مدد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن سے ہی چھینے گئے اسلحہ سے متعدد بھارتی چیک پوسٹوں پربھی قبضہ کیا۔غازی علی مدد کا کہنا تھا کہ کرنل حسن پارٹی کیساتھ قمری ٹاپ، صوبیدار میجر بابر لداخ اور شان خان کو کارگل کا چارج دیا گیا، کارگل فتح کرنے کے بعد درازل سے دشمن کی خبر ملی تو 700 کی نفری بھیجی گئی،کچھ جوان نگر اور کچھ استور کی پوسٹوں پر دشوار گذار راستوں سے ہوتے ہوئے پہنچے،ہمیں صوبیدار تنویر کیساتھ آگے بھیجا گیا جہاں دشمن کی بڑی تعداد موجود تھی۔
غازی علی مددنے کہا کہ ہم حملہ آور ہوئے تو دشمن ہتھیار چھوڑ کر بھاگ گئے،ہم نے دشمن سے بھاری مقدار میں ہتھیار جمع کرنے کے بعد جوانوں میں تقسیم کئے،اگلے دن پھر حملہ کیلئے جوانوں کو تیار کیا گیا اس دوران ہم مستقل پیدل آگے بڑھتے گئے، ان جوانوں نے دشمن پر حملہ کر کے 50 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کر دیا۔50 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دشمن 3دن تک ہم پر جہازوں سے حملہ کرتا رہا،انتہائی مشکلات اور مسائل کے باوجود دشمن کو شکست دی۔








