پاکستان کا مستقبل جدید علوم سے وابستہ،مصنوعی ذہانت کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ،ہمارے نوجوان ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، احسن اقبال

لاہور۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ، ہمارے نوجوان ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اڑان پاکستان ایک منصوبہ نہیں عہد ہے،آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، معرکہ …

لاہور۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ، ہمارے نوجوان ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، اڑان پاکستان ایک منصوبہ نہیں عہد ہے،آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، معرکہ حق میں شاندار کامیابی جدید علوم کے حصول سے ممکن ہوئی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) کے زیر اہتمام تیسری آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیمپئن شپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

احسن اقبال نے کہا کہ علم وہ قوت ہے جو قوموں کی تقدیر بدل دیتی ہے،آرٹیفیشل انٹیلی جنس آنے والے دور کی معیشت، تعلیم، صحت اور گورننس کا بنیادی ستون بن چکی ہے،مصنوعی ذہانت مستقبل نہیں بلکہ حال ہے جو صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور گورننس جیسے اہم شعبوں کو یکسر بدل رہی ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، توانائی، ٹریفک مینجمنٹ، ہیلتھ کیئر اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں اے آئی پر مبنی حل متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جنگ صرف ہتھیاروں کی مدد سے ہی نہیں بلکہ ڈیٹا کے حصول ، تحقیق اور جدید علوم سے ہی ممکن ہے ، جس کی واضع مثال معرکہ حق میں شاندار کامیابی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک قومی ترجیح اورحکومت ملک کو جدید خطوط پر لے جا رہی ہے،پاکستان کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلانا ہمارا ہدف ہے اور یہ ہدف ہم اپنے باصلاحیت نوجوانوں کی مدد سے حاصل کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوان ہماری اصل طاقت ہیں،پاکستان کے نوجوانوں میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ملک کو ڈیجیٹل معیشت کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو ڈیجیٹل اسکلز اور ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پالیسی سطح پر جامع اقدامات کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جامعات کی کارکردگی کیلئے تعلیمی معیار،تحقیق و جدت،صنعت و اکیڈمی تعلقات،سماجی خدمت،ٹیکنالوجی کا استعمال،کارپوریٹ گورننس اور گریجویٹس کے معیار جیسے نکات نہایت اہمیت کے حامل ہیں ،حکومت مختلف جامعات اور نجی شعبے کے اشتراک سے نیشنل سینٹرز آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس قائم کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو جدید تحقیق کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام ایک منصوبہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے، اس منصوبے کے تحت ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں مختلف تربیتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں،چین کے تعاون سے سی پیک منصوبہ کے تحت 3000 ہزار نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی ۔احسن اقبال نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور روبوٹکس جیسے جدید شعبوں میں مہارت حاصل کریں تاکہ پاکستان کو ایک نالج اکانومی میں تبدیل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل جدید علوم، جدت اور تخلیقی صلاحیتوں سے وابستہ ہے، اے آئی نوجوانوں کے لیے ترقی اور جدت کے بے پناہ مواقع فراہم کر رہی ہے، نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیٹا سائنس، روبوٹکس اور مشین لرننگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کر کے ملکی ترقی میں کردار ادا کریں۔احسن اقبال نے لمز کی انتظامیہ اور آرگنائزرز کو چیمپئن شپ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نوجوان نسل میں جدت، تحقیق اور مقابلے کی صلاحیت کو فروغ دیتی ہیں۔

تقریب میں طلبہ کی بڑی تعداد، فیکلٹی ممبران اور آئی ٹی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔ مقابلے میں ملک بھر کی مختلف یونیورسٹیوں کی ٹیموں نے شرکت کی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پراجیکٹس پیش کیے۔

 

مزید خبریں