جنید انوار چوہدری کا پاکستان کو عالمی سمندری معیشت کا مرکز بنانے کیلئے سو سالہ میری ٹائم سنچری وژن کا اعلان

کراچی ۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ’’پاکستان میری ٹائم سنچری (2047 تا 2147)‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سمندری معیشت کا اہم مرکز بنانا ہے۔کراچی میں ’’پاکستان میری ٹائم ویک 2025‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ساحلی …

کراچی ۔1نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ’’پاکستان میری ٹائم سنچری (2047 تا 2147)‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سمندری معیشت کا اہم مرکز بنانا ہے۔کراچی میں ’’پاکستان میری ٹائم ویک 2025‘‘ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے ساحلی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور بندرگاہی ڈھانچے سے بھرپور فائدہ اٹھا کر معیشت کو سمندر سے وابستہ ترقی کی نئی راہ پر ڈالنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وژن نہ صرف بحری خودکفالت بلکہ پائیدار ترقی کی سمت بھی ایک بڑا قدم ہے۔جنید چوہدری نے بتایا کہ ’’میری ٹائم سنچری‘‘ پانچ بنیادی ستونوں پر مبنی ہے جن میں بندرگاہوں کی توسیع، جدید جہاز رانی بیڑے کی تشکیل، جہاز سازی اور ری سائیکلنگ کی صنعت کا فروغ، ماحول دوست بحری ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کی ترقی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ آج کا نہیں بلکہ اگلی سو سال کی سمندری ترقی کا عہد ہے۔وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن آئندہ ایک سال میں اپنے بیڑے کو 30 جہازوں تک بڑھائے گی جبکہ اگلے تین سال میں یہ تعداد 60 تک پہنچا دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے پاکستان کا سالانہ پانچ ارب ڈالر کا سمندری فریٹ بل کم کیا جا سکے گا۔

انہوں نے بتایا کہ گوادر اور گڈانی کے ساحلی علاقوں میں 12 ارب روپے کی لاگت سے جدید شپ ری سائیکلنگ سہولیات کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے جبکہ ساحلی برادریوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے ایک خصوصی تعلیمی فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ مقامی آبادی براہِ راست بحری ترقی کے ثمرات حاصل کر سکے۔جنید چوہدری نے کہا کہ پاکستان دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہوں کے سنگم پر واقع ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کر کے اسے طاقت میں بدلیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کا میری ٹائم سیکٹر قومی جی ڈی پی میں 0.8 فیصد حصہ رکھتا ہے، جسے 4 فیصد تک بڑھانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی بندرگاہیں اس وقت اپنی 50 فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں، جسے 2047 سے قبل مکمل استعداد تک پہنچایا جائے گا جبکہ تین نئی بندرگاہوں کے قیام پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا۔پاکستان میری ٹائم ویک 2025 میں پالیسی سازوں، صنعت کاروں اور ماہرین نے شرکت کی تاکہ پاکستان کے بحری مستقبل کے لیے پائیدار سمت متعین کی جا سکے۔

 

مزید خبریں