صحافت ریاست کا ایک اہم ستون اور جمہوریت کا بنیادی جزو ہے، سردار ایاز صادق

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ صحافت ریاست کا ایک اہم ستون اور جمہوریت کا بنیادی جزو ہے،ہر سال دنیا بھر میں صحافیوں کو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران تشدد، دھمکیوں اور ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور متعدد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو صحافیوں کے خلاف …

اسلام آباد۔1نومبر (اے پی پی):اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ صحافت ریاست کا ایک اہم ستون اور جمہوریت کا بنیادی جزو ہے،ہر سال دنیا بھر میں صحافیوں کو اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران تشدد، دھمکیوں اور ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور متعدد صحافی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن پر کیا، جو ہر سال 2 نومبر کو اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہتمام دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ جمہوری اور انصاف پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے غزہ، فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی قابض افواج اور بھارتی مسلح افواج کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو نشانہ بنانا انسانی حقوق، بین الاقوامی قوانین اور آزادی صحافت کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو غزہ اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں کے خلاف ہونے والی ریاستی دہشتگردی اور جرائم کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف آزادیٔ اظہار کو دبانے کی کوشش ہیں بلکہ حقائق کو دنیا سے چھپانے کے مترادف ہیں،پاکستان کی پارلیمان نے ہمیشہ آزادی صحافت، اظہار رائے اور صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017‘ پارلیمان اور حکومتِ پاکستان کے اس عزم کا مظہر ہے کہ شہریوں بالخصوص صحافی برادری کو قانون سازی اور حکومتی امور سے متعلق معلومات تک رسائی حاصل ہو۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان آزادیٔ صحافت، شفاف طرزِ حکمرانی اور معلومات تک عوامی رسائی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کو بلا خوف و خطر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی بحالی اور استحکام کے لیے صحافتی برادری کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے اور پارلیمان ان کے حقوق اور تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفی شاہ نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور جمہوری اقدار کے محافظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد اور شفاف طرزِ حکمرانی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام دو نومبر کو منائے جانے والا یہ دن ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور غیر منصفانہ رویوں کا خاتمہ عالمی سطح پر مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ڈپٹی سپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے غزہ، فلسطین اور بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں صحافیوں کے بہیمانہ قتل اور ان پر تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض افواج کی جانب سے حقِ سچائی کو دبانے کے لیے میڈیا اہلکاروں کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمان آزادیٔ اظہار، صحافتی تحفظ اور عوام کے حقِ معلومات کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

 

مزید خبریں