فیصل آباد، کاشتکاروں کو بہترین پیداوار کےلئے کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدایت

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو بہترین پیداوار کے حصول کےلئے کیمیائی کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ گندم کی کاشت اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلئے فصل میں کھادوں کا استعمال زمین کی نوعیت کے مطابق محکمہ زراعت کے عملے کی مشاورت سے کیا جائے۔ انہون نے کہا کہ کمزور زمینوں میں …

فیصل آباد۔ 03 نومبر (اے پی پی):محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو بہترین پیداوار کے حصول کےلئے کیمیائی کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان نظامت زرعی اطلاعات محکمہ زراعت نے کہا ہے کہ گندم کی کاشت اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کےلئے فصل میں کھادوں کا استعمال زمین کی نوعیت کے مطابق محکمہ زراعت کے عملے کی مشاورت سے کیا جائے۔

انہون نے کہا کہ کمزور زمینوں میں بوائی کے وقت 2بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا،ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ، ڈیڑھ بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 5بوری سنگل سپر فاسفیٹ، اڑھائی بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ڈالی جائے۔ انہوں نے بتا یا کہ اوسط زرخیز زمینوں میں گندم کی بوائی کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4بوری سنگل سپر فاسفیٹ، ایک بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ کااستعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زرخیز زمینوں میں ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، پونی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، سوا بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا دو بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر بہترین پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔