فیصل آباد۔ 05 نومبر (اے پی پی):پلانٹ پروٹیکشن،پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز محکمہ زراعت کے ماہرین نے کاشتکاروں کو اکتوبر کاشتہ چنے کی فصل سے پیازی، باتھو، چھنکنی بوٹی، رت پھلائی، دمبی سٹی، ریواڑی کے تدارک کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چند ایک مقامات پر اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں کاشت کی گئی چنے کی فصل میں مذکورہ بوٹیوں کی کچھ علامات مشاہدے میں آئی …
کاشتکاروں کو اکتوبر کاشتہ چنے کی فصل سے پیازی، باتھو، چھنکنی بوٹی، رت پھلائی، دمبی سٹی، ریواڑی کے فوری تدارک کی ہدایت

مزید خبریں
فیصل آباد۔ 05 نومبر (اے پی پی):پلانٹ پروٹیکشن،پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز محکمہ زراعت کے ماہرین نے کاشتکاروں کو اکتوبر کاشتہ چنے کی فصل سے پیازی، باتھو، چھنکنی بوٹی، رت پھلائی، دمبی سٹی، ریواڑی کے تدارک کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ چند ایک مقامات پر اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں کاشت کی گئی چنے کی فصل میں مذکورہ بوٹیوں کی کچھ علامات مشاہدے میں آئی ہیں لہٰذا کاشتکار اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کریں اور جڑی بوٹیوں کی فوری تلفی یقینی بنائیں تاکہ فصل کو نقصان پہنچنے سے بچایاجاسکے۔
انہوں نے کہاکہ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ جڑی بوٹیوں کی تعداد کم ہونے کی صورت میں جڑی بوٹی مار زہروں کی بجائے گوڈی کو ترجیح دیں اور پہلی گوڈی فصل اگنے کے 30سے40روز بعد اور دوسری گوڈی پہلی گوڈی کے 25 سے30روز بعد کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ریتلے رقبوں میں جہاں چنے کی زیادہ کاشت کی جاتی ہے وہاں جڑی بوٹیوں کی تلفی بذریعہ روٹری انتہائی آسانی سے کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے بتایاکہ جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے کیمیائی زہروں کے استعمال کا طریقہ بھی نہائت مؤثر ثابت ہواہے تاہم کیمیائی زہروں کا استعمال ماہرین زراعت کی مشاورت یا محکمہ زراعت کے فیلڈ سٹاف کی سفارش کی روشنی میں کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایاکہ چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے تاہم آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں بالعموم اور پھول اگنے کی صورت میں بالخصوص اگر فصل سوکا محسوس کرے تو اسے ہلکا پانی لگا دیاجائے تاہم دھان کے بعد کاشتہ چنے کی فصل کو آبپاشی کی ضرورت نہیں پڑتی۔








