اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہدائے جموں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ”یوم شہدائے …
پاکستان جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا ”یوم شہدائے جموں“ کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے شہدائے جموں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ”یوم شہدائے جموں“ 6 نومبر 2025ء کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس مقدس دن پر پاکستان جموں کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جموں کے قتل عام کو نسل کشی کے طور پر تسلیم کریں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیرکی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوششوں سمیت بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کے لیے بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء میں آج کے دن ہندو ڈوگرہ مہاراجہ کی افواج نے آر ایس ایس کے انتہا پسندوں اور پٹیالہ اور کپورتھلہ کے مسلح گروہوں کی مدد سے برصغیر کی تاریخ کا ایک بدترین قتل عام کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ جموں کے قتل عام کے بعد 2 لاکھ سے زیادہ مسلمان شہید کئے گئے اور 5 لاکھ سے زیادہ سیالکوٹ کے آس پاس کے علاقوں میں جانیں بچاکر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ چند ہی ہفتوں میں 6 نومبر 1947ء کے سانحہ نے جموں کی آبادی کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا اور منظم نسلی کشی کے ذریعے ایک مسلم اکثریتی خطہ کو اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ جموں کا قتل عام جدید تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں سے ایک ہے، جہاں دنیا دیگر عظیم انسانی المیوں کو یاد رکھتی ہے وہیں 1947ء میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کو کبھی بھی وہ پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ مستحق تھی۔
انہوں نے کہا کہ ظلم و بربریت کا پیمانہ حیران کن تھا، پورے دیہات کا صفایا ہوگیا اور خاندان بکھر گئے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ دنیا بھر کے کشمیری اس دن کو شہداءجموں اور ان نہتے شہریوں کو یاد کرنے کےلئے مناتے ہیں جنہیں ان کے عقیدے اور شناخت کے لیے قتل کیا گیا تھا، ان کی قربانی جموں و کشمیر کی نامکمل کہانی کی ایک واضح یاد دہانی ہے، ایک کہانی جو 1947ء کے جبری قبضے سے شروع ہوئی تھی اور جو آج بھی بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیرمیں جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی جبر کا انداز برقرار ہے، ڈوگرہ حکمران اور آر ایس ایس کے انتہا پسندوں کی جانب سے ریاستی سرپرستی میں قتل وغارت کی مہم کے طور پر جو کچھ شروع ہوا وہ بھارتی ریاست کے ذریعے منظم آبادیاتی انجینئرنگ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ اگست 2019ء میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی، زمینوں پر قبضہ، غیر مقامی لوگوں کی آمد اور کشمیری شناخت پر پابندیاں جموں و کشمیر کے مسلم کردار کو مٹانے کے ایک ہی منصوبے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر تسلط جموں و کشمیرمیں تقریباً 10 لاکھ بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے ساتھ جاری قبضے نے اس خطے کو دنیا کے سب سے زیادہ عسکری زون میں تبدیل کردیا ہے، دنیا کو کشمیریوں کی ایک اور نسل کو ظلم و ستم، نقل مکانی اور بے دخلی کا سامنا کرنے سے نظریں نہیں چرانا چاہیے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جموں کے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کشمیری عوام کی مکمل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور ہم ان کے انصاف، وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔








