بعض میڈیا ہائوسز نے بغیر نوٹس صحافیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بعض میڈیا ہائوسز نے بغیر نوٹس صحافیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا، آئندہ ہفتے میڈیا مالکان کے ساتھ ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا، نکتہ پلیٹ فارم کے برطرف صحافیوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار …

اسلام آباد۔5نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بعض میڈیا ہائوسز نے بغیر نوٹس صحافیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا، آئندہ ہفتے میڈیا مالکان کے ساتھ ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا جائے گا، نکتہ پلیٹ فارم کے برطرف صحافیوں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔

بدھ کو قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ میڈیا نمائندگان نے آج اجلاس سے واک آئوٹ کیا جس کے بعد میں اور امین الحق ان کے پاس گئے، ان کے تین چار مطالبات ہیں جو بالکل جائز ہیں، گزشتہ دنوں کچھ ٹی وی چینلز نے بغیر نوٹس، بغیر وجہ بتائے اور بغیر ایڈوانس تنخواہوں کے متعدد ملازمین کو برطرف کیا جن میں ورکنگ جرنلسٹ بھی شامل ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ میڈیا اداروں کو حکومت کی جانب سے ادائیگیاں بروقت کی جا رہی ہیں اور پی بی اے اور اے پی این ایس سے ہر ملاقات میں یہی گذارش کی جاتی ہے کہ ادائیگیوں کا فائدہ میڈیا ورکرز اور جرنلسٹس تک پہنچنا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں پی بی اے اور اے پی این ایس کے ساتھ اگلے ہفتے اہم میٹنگ طے ہو چکی ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آج پی ایف یو جے کا ایک وفد ان سے ملا جس میں افضل بٹ، مظہر عباس، آصف بشیر چوہدری، صاحبزادہ ذوالفقار اور نیئر علی شامل تھے، ان کی موجودگی میں یہ طے پایا کہ پی ایف یو جے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرے گی جسے اگلے ہفتے میڈیا مالکان کے سامنے رکھا جائے گا اور پی بی اے اور اے پی این ایس کے ساتھ بیٹھ کر اس کا دیرپا حل نکالا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا طریقہ کار موجود ہے، اخبارات کیلئے آئی ٹی این ای اور دیگر فورمز کام کر رہے ہیں جبکہ پیمرا میں کونسل آف کمپلینٹس بھی موجود ہے جس میں پی ایف یو جے کے ممبران شامل ہوتے ہیں تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے ملازمین کے لیے فی الوقت کوئی ایسا میکنزم موجود نہیں جہاں وہ اپنے مسائل اٹھا سکیں۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت نے ریگولیشنز بنا دی ہیں، قانون سازی بھی مکمل ہے اور نکتہ پلیٹ فارم سے جن صحافیوں کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا، ان سب کو اگلے 48 گھنٹوں میں ملازمتیں دی جائیں گی۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب پر حملے کے حوالے سے کہا کہ بطور وزیر اطلاعات اس وقت واضح موقف اختیار کیا تھا کہ یہ حملہ ایسے ہے جیسے میرے گھر پر حملہ ہوا ہو، اس حوالے سے وزارت داخلہ سے بات چیت چل رہی ہے اور این پی سی پر حملے کی رپورٹ کل جمع کرا دی جائے گی جس کے بعد مل کر اس کا بھی حل نکالا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وہ تمام صحافتی نمائندہ اداروں پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یو جے اور این پی سی کو اپنا حلقہ سمجھتے ہیں اور صحافیوں کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ تمام صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔